امریکہ اور یوکرین کے درمیان ’نایاب معدنی ذخائر‘ کے معاہدے کا امکان

توقع کی جا رہی ہے کہ یوکرین اور امریکہ جلد ہی یوکرین کے ’نایاب معدنی ذخائر‘ کے حوالے سے ایک معاہدے پر پہنچ جائیں گے۔ لیکن اس کا مطلب کیا ہے؟

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ، یوکرین کو دی گئی سابقہ امداد کے بدلے اس کے معدنی وسائل تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے جبکہ یوکرین مستقبل میں سکیورٹی ضمانتوں پر اصرار کر رہا ہے۔

گذشتہ ہفتے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ملک کے 500 ارب ڈالر کے معدنیاتی ذخائر تک رسائی فراہم کرنے کی تجویز کو ٹھکراتے ہوئے کہا کہ یوکرین کو اس قدر مالی امدار نہیں ملی اور مزید یہ کہ وہ اپنا ’ملک بیچ نہیں سکتے۔
اب معاہدہ ہونے کا امکان ہے۔ لیکن یہ واضح نہیں کہ اس میں کون کون سے معدنیات شامل ہوں گی، امریکہ سابقہ امداد کے بدلے کتنی رقم وصول کرنے کی کوشش کرے گا اور مستقبل میں ’سکیورٹی گارنٹی‘ کا کیا مطلب ہو گا۔

یوکرین میں قیمتی عناصر اور معدنیات کے وسیع ذخائر موجود ہیں جن میں لیتھیم اور ٹائٹینیم شامل ہیں جبکہ کوئلہ، گیس، تیل اور یورینیم کے بھی بڑے ذخائر پائے جاتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان کی مالیت اربوں ڈالر ہے۔

288 total views, 3 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *