انٹرویو نبیلہ اکبر
السلام علیکم معزز قارئین!
میزبان رشنا اختر حاضر ہے ایک نئے زبردست سے انٹرویو کے ساتھ ۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں محترمہ نبیلہ اکبر صاحبہ تو چلیئے بغیر وقت ضائع کیے گفتگو کا سلسلہ شروع کرتے ہیں ۔
السلام علیکم! کیسی ہیں آپ ؟
وعلیکم السلام ! اللّٰہ کا شکر ہے میں ٹھیک ہوں ۔
*کُچھ اپنے بارے میں بتائیے ۔
نبیلہ اکبر نام ہے۔ لاہور شہر میں پیدا ہوئی یہی پلی بڑھی پھیلی اور پھولی۔ چار بہن بھائی ہیں ہم اور بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہوں۔ ایک میری بیٹی ہے میری کل کائنات زخرف منال۔ بیٹی کے علاوہ جان سے زیادہ عزیز چھوٹی بہن کے تین بچے ہیں میرے لاڈلے محمد روباص ، محمد اعراس اور شیزرے فاطمہ جو مجھے ،،موٹی ماما،، کہتے ہیں۔ ایک میرا منہ بولا بیٹا ہے عثمان علی معاویہ
*پسندیدہ ادبی شخصیات کون سی ہیں جنہیں زیادہ پڑھتی ہیں ؟
پسندیدہ ادبی شخصیات تو بہت سی ہیں پڑھتی بھی سب کو ہوں آج کے دور میں کتاب سے دوری اختیار ہو چکی لیکن اپنے سکول و کالج کے زمانے میں کتابیں خرید کر پڑھتے تھے ، لائبریری سے کتابیں ایشو کروا کر پڑھتے تھے کیونکہ جب تک ہم سینیئر ادیبوں کو پڑھیں گے نہیں تو اچھا لکھ نہیں سکتے۔ اس لیئے بڑے ادیبوں کی تصانیف ضرور پڑھیں۔ حسینہ معین ، امرتا پریتم اور آج کے دور کی سلمی اعوان پسند ہیں لیکن پڑھتی سب کو ہی ہوں علامہ اقبال کی شاعری یاد ضرور ہے لیکن کم فہم ہونے کی وجہ سے ان کی شاعری سمجھنا بھی عام انسان کے بس کی بات نہیں۔ احمد فراز، محسن نقوی غالب، ساحر لدھیانوی ، احمد ندیم قاسمی ، منو بھائی ، امجد اسلام امجد ، اصغر ندیم سید، بلقیس ریاض بہت سے ادیب ہیں جو میرے پسندیدہ ہیں۔
*اپنے زمانے میں سپورٹس گالا کے حوالے سے کوئی یادگار واقعہ جو قارئین کے ساتھ شئیر کر سکیں ۔
سکول و کالج کے زمانے کے بیشمار یادگار واقعات ہیں۔ سکول کا زمانہ آپ کی زندگی کا سنہرا دور ہوتا ہے۔ پڑھائی کے ساتھ کھیل کود، ٹیبلوز میں حصہ لینا، بزم ادب کی کمیٹی کی فعال رکن تھی۔ ہر مزہبی اور قومی دن کو اہتمام سے منایا کرتے تھے۔ بہترین کھلاڑی تھی باسکٹ بال اور ٹیبل ٹینس پسندیدہ گیم تھی بہترین ایتھلیٹ بھی تھی سکول میں کتنی بار بہترین ایتھلیٹ قرار پائی۔ایک بار مختلف سکولوں کے درمیان مقابلے ہوئے تو نیزہ بازی میں پہلی پوزیشن ، سو میٹر ریس میں پہلی پوزیشن ، دھاتی گولا اور لانگ جمپ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر بیسٹ ایتھلیٹ کا میڈل حاصل کیا تو واپسی پر بس کی چھت پر چڑھ کر اپنی جیت کا جشن منایا اور اس وقت فیروز پور روڈ پر ایک صحافی نے میری تصویر بنائی تو جھٹ سے میں نے کہا انکل جب میں صحافی بنوں کی تو میں نام بھی لکھوں گی خبر میں آپ نے میرا نام نہیں پوچھا اس صحافی نے بس رکوا کر میرا نام پوچھا اور پھر اخبار میں لگائی جب نیوز پیپر میں تصویر نام کے ساتھ لگی تو ایسے لگتا جیسے دنیا ہی فتح کر لی ہے یہ واقعہ کبھی نہیں بھولی۔
سکول میں ہر سال ٹرپ جایا کرتا تھا جس میں جانا باعث فخر سمجھتے تھے وہ یادگار دن تھے اس وقت کو یاد تو کیا جا سکتا ہے لیکن وآپس نہیں لایا جا سکتا۔ پھر سکول سے کالج میں کا دور شروع ہوا تو ایک نئے جذبے نئی امنگیں دل میں لے کر کالج گئے سکول سے بڑی گراؤنڈ ، گیمز کی ٹیچر ، کوچز ملے انٹر کالجیٹ ، یونیورسٹیوں کے ساتھ مقابلے ہونا ، کالج کا سالانہ سپورٹس گالا یادگار دن ہوتا۔ کئی دن کھیلوں کے مقابلے ہونا اور بہت بڑے پیمانے پر کالج گروانڈ میں ہزاروں لڑکیوں کے درمیان ریس میں حصہ لینا جیتنا وکٹری اسٹینڈ پر کھڑے ہو کر میڈل لینا یادگار دن ہوتا۔ چاٹی ریس میں حصہ لینا۔ پھر ٹیبلوز میں حصہ لینا ڈھول پر دھمال ڈالنا انٹرویو دینا سب ایک خواب جیسا لگتا۔ پھر اسی سپورٹس ڈے گالا کی رپورٹ لکھنا کالج میگزین میں چار سال تک سپورٹس کی تمام رپورٹس میں لکھا کرتی تھی کسی بھی پروگرام کی رپورٹ لکھنا میں نے یہیں سے آغاز کیا میری اردو کی استاد شاہدہ علی کی حوصلہ افزائی سے لکھنا شروع کیا۔ تقریری مقابلے میں تقریر کرنے میں بھی اردو کی استاد نرگس جاوید نے سکھایا جو معروف ادیب یونس جاوید کی اہلیہ ہیں۔ ماں باپ کے بعد اساتذہ آپ کی زندگی میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں میں اپنی سکول و کالج کی بیشتر ٹیچرز مسز مقدس شوکت، مسز فاخرہ شجاع ، مس شائستہ
، مس خالدہ ، مس شہنیلہ خان سے آج بھی ملتی ہوں جو میری خوش نصیبی ہے۔ ہر بچے کا بچپن یادگار ہی ہوتا ہے کسی کا کم اور کسی کا زیادہ یادگار لیکن اس وقت کو بھولنا ناممکن ہے وقت کتنی تیزی سے گزرتا گیا پتا ہی نہیں چلا کب پچپن سے پچپن میں داخل ہو گئے۔
*ادب کے فروغ کے لیے کون سے اقدامات ضروری ہیں ؟
ادب کے فروغ کے لیے میں سمجھتی ہوں ہمارے سکول سسٹم میں بزم ادب کے لیے ایک دن مخصوص کریں اور اردو ادب کے لیے قابل اساتذہ کی نگرانی میں ادب کی آبیاری کی جائے نئی نسل کے لیے۔ بچوں کو سکھایا جائے کتاب کی اہمیت ، کتاب کو پڑھنا، مختلف موضوعات پر تحریر لکھنا اور حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ بچوں میں تخلیقی صلاحیتیں اجاگر کیا جائے۔ یہ تب ہی ممکن ہے اگر یہ بوجھ والدین پر نا ڈالا جائے بلکہ سکولوں میں لائبریریاں موجود ہوں اور ان لائبریریوں میں حکومت کے علاوہ عام شہری اپنے علاقے کے سکول کالجز میں اپنی مدد آپ کے تحت اپنی بساط کے مطابق حصہ ڈالیں تاکہ ان نئے لکھنے والوں مدد کی جائے اور نیا ادب تخلیق ہو سکے۔
*فرصت کا بہترین استعمال کیسے کرتی ہیں ؟
زندگی اتنی مصروف ہے سر کھجانے کا ٹائم نہیں ملتا روٹی روزی نے اتنا الجھا دیا ہے۔ لیکن پھر بھی فراغت کے لمحات نکال ہی لیتی ہوں اور لکھنے کے لیے تو لازمی وقت نکالتی ہوں عادت سی ہو گئی۔فری وقت میں سوشل میڈیا کا استعمال بھی لازمی جزو ہے۔ اس کے علاوہ سکول کالج کے زمانے کے بعد کبھی گھومنے نہیں گئی لیکن اب کوئی گھومنے پھرنے کا موقعہ ملے تو کوشش کرتی ہوں وقت گزار لوں اپنے دوستوں ساتھ۔
ویسے میں تنہائی پسند ہوں لیکن کسی تقریب میں مجھے اکیلے جانا پسند نہیں پھر میں اپنی دوستوں ساتھ جانا پسند کرتی ہوں دوست بہت سی ہیں کزن فرینڈ ، بچپن کی دوست ، سکول ، کالج ، یونیورسٹی ،ادبی دوست، سماجی و سیاسی دوست لیکن کچھ دوست بہت خاص ہوتے ہیں آپ کی زندگی میں لہذا میری ایک بیسٹ فرینڈ ہے منزہ سموئیل ہماری دوستی کے 32 سال گزر گئے کبھی لڑائی نہیں ہوئی۔ زندگی کے ہر موڑ پر میرے ساتھ کھڑی ہے ساری دنیا میرے خلاف ہو جائے یہاں تک میرے کے خون کے رشتے میرے دشمن بن گئے لیکن وہ میرے ساتھ کھڑی رہی میری ہر قول و فعل اس کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ہم دونوں نے کبھی مذہبی ایذا نہیں پہنچائی ایک دوسرے کو صرف انسانیت اور دوستی کے رشتے کو مضبوط رکھا۔
*زندگی کا دیا ہوا کوئی ایک سبق جو ابھی تک کار آمد ثابت ہوا ہو ؟
زندگی ہر آنے والے لمحے میں ایک نیا سبق دیتی ہے گود سے گور تک انسان سیکھتا ہی رہتا ہے۔ بہت سبق آموز واقعات زندگی میں آئے جن سے سیکھا اور ان تمام سبق میں اللّٰہ تعالیٰ کو ہی کارساز اور مددگار پایا۔ انسان تو دوسرے انسان کو گرانے کی کوشش کرتا ہے لیکن اللّٰہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس آپ کو سنبھال لیتی ہے۔ ہماری بہت سی کوتاہیوں اور غلطیوں کو انسان معاف نہیں کرتا پردہ پوشی نہیں کرتا لیکن اللّٰہ تعالیٰ ہماری کوتاہیوں پر پردہ ڈال دیتا ہے اور ہمیں آزمائش سے نکالتا ہے ہمیں آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اللّٰہ غفور الرحیم ہے جب اللّٰہ ڈر ہے تو اس دنیا سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ اچھے برے ہر طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے کئی لوگ اذیت کا باعث بنتے ہیں لیکن یہ سوچ کر درگزر کر جاتی ہوں ،،، یہ وقت بھی گزر جائے گا ،،،
*لوگوں کے بارے میں کیا راۓ ہے ؟ موجودہ معاشرہ کس قسم کا ہے ؟
کوئی بھی انسان اکیلا رہ کر زندگی نہیں گزار سکتا اسے اپنی زندگی گزارنے کے لیے مختلف لوگوں کے ساتھ رہ کر زندگی گزارنی ہے۔ ایک انسان سے ایک خاندان بنتا ہے اور پھر ضروریات زندگی پورا کرنے کے لیے ایک معاشرہ بنتا ہے اور اس معاشرتی زندگی سے ہم مختلف لوگوں کے ساتھ جڑے ہیں اپنی معاشرتی اور معاشی نظام کے لیے۔ ہر انسان میں اچھائی اور برائی کا عنصر پایا جاتا ہے کوئی انسان اگر ایک انسان کے ساتھ برا ہے تو کہیں کسی کے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتا ہے۔ برا انسان پیدائشی برا نہیں ہوتا وقت اور حالات اسے ایسا بنا دیتے ہیں میری نظر میں سب اچھے ہیں بس منافقت سے بچنا چاہیے لیکن کچھ لوگ آپ کی نرمی کا فائدہ اٹھاتے ہیں میں اللّٰہ پر اور وقت پر چھوڑ دیتی ہوں کیونکہ وقت بہت بڑا استاد ہے۔مجھے غصہ کم آتا ہے اور جب کسی پہ آئے تو غضب ناک قسم غصہ آتا ہے پھر بھی در گزر کر جاتی ہوں۔
*آپ کی شائع شدہ کتب کے نام ؟
لکھا تو بہت کچھ ہر فیلڈ میں طبع آزمائی کی لیکن میری خواہش تھی پہلی تصنیف کی کتابی شکل آئے تو سیرت النبی پر شائع ہو اور میری پہلی کتاب سیرتِ طیبہ پر لکھی تھی اور کتاب کا نام ،،، رحمت دوعالم ،،، جو 2019 میں پبلش ہوئی پھر دوسرا ایڈیشن 2021 میں شائع ہوا۔ اس طرح میں ایک سیرت نگار بن گئی جو میرے لیئے ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔ افسانوں کی ایک کتاب کا مواد موجود ہے ۔ کالموں کا مجموعہ بھی ریڈی ہے ایک ناول ہے ابھی نامکمل ہے۔ شاعری کی ایک کتاب مکمل ہے لیکن پبلش کروانا باقی ہے کچھ مصروفیات کی وجہ سے شائع کروا نہیں کروا پا رہی۔
*اب تک کتنے ایوارڈ اپنے نام کر چکی ہیں ؟
بے شمار ایوارڈ مختلف ادبی تنظیموں سے حاصل کر چکی جن میں اپووا ایوارڈ ، پچھلے سال وزیر اطلاعات و نشریات عظمیٰ بخآری نے صحافتی خدمات کے صلے میں لاہور سے سات خواتین کو دیا جن میں ایک میں بھی تھی جسے ایوارڈ سے نوازا۔ سیرت النبی کی کتاب پر وفاقی حکومت مذہبی آمور اسلام آباد سے ایک سرٹیفکیٹ اور دس ہزار حوصلہ افزائی پر ملا جو میرے لیئے باعثِ مسرت ہے۔
*کیا عصر حاضر میں ادبی محافل اپنے تقاضے پورے کر رہی ہیں ؟
کافی حد تک کچھ ادبی تنظیمیں بہت اچھا کام کر رہی ہیں۔ لیکن نئے لکھاریوں کو چند ایک تنظیم ہی ہیں جو موقع دیتی ہیں آگے بڑھنے کا جن میں سر فہرست اپووا ہے جس کی گواہ میں خود ہوں آج اپووا کی وجہ سے ہی میں یہاں تک پہنچی اور مجھے اس تنظیم میں شامل کرنے والا حافظ محمد زاہد اور ایم ایم علی ہیں۔
*آج خود کو کہاں دیکھتی ہیں ؟
انسان کی میراث انسانی اقدار میں ہے خواہش ہے اچھی انسان بنوں ویسے میں کہیں بھی نہیں دیکھتی اپنے آپ کو ایک عام سی حقیر سے انسان ہوں بہت کچھ کرنے کا ارادہ ہے اپنے لیئے اور دوسروں کے لیے بھی کچھ کر سکوں۔ ادب کی صدق دل سے خدمت کرنا چاہتی ہوں۔
*کالج کے زمانے کا کوئی یادگار واقعہ ؟
* سکول کی نسبت کالج کے واقعات زیادہ یاد ہیں۔ ایک مرتبہ کالج کا سپورٹس ڈے تھا چاٹی ریس، بوری ریس ایونٹ کے ایونٹ سپورٹس گرلز کے علاوہ عام طالبہ کو بھی شامل کیا جاتا تو ہم سپورٹس گرلز کو وہ ٹرافی 🏆 بھی کسی دوسرے کو دینا برداشت نہیں ہوتی تھی چاٹی ریس میں چاٹی سر پر ٹکتی نہیں تھی تو چھپکے سے پتھر ڈال کر وزنی کر دیتی جس سے وہ گرتی نہیں تھی یوں چاٹی ریس کا پرائز بھی خود ہی اپنے نام کروا لیتے۔ لاہور ڈویژن کی طرف سے سلیکشن ہوا ۔
پاکستان سپورٹس کمپلیکس اسلام آباد میں تو ہمارے روم کا لاک خراب ہو گیا تھرڈ فلور پر روم تھا دو تین دن اپنے روم کی کھڑکی سے ساتھ والے روم کی بالکونی سے خطرناک قسم کے طریقے سے جاتے اور باہر نکلتے ایک دن ساتھ والے روم کی لڑکیاں لاک لگا کر میس میں چلی گئیں کھانا کھانے اور ہمیں مجبوراً چار لڑکیوں کو تیسرے روم کی کھڑکی سے کی طرف جانا پڑا وہ اٹلانٹا گیمز امریکہ کی تیاری والی لڑکیوں کا روم تھا کھڑی بجاتے ہی انھوں نے چیخنا شروع کر دیا پورا ہاسٹل اکٹھا ہو گیا جب انچارج ہاسٹل نے پوچھا ایسا کیوں کیا تو پھر ہم لوگوں نے بتایا روم کا لاک خراب ہے ڈانٹ پڑی کہ بتا دیتے روم کا لاک تو ٹھیک ہو گیا لیکن اٹلانٹا گیمز والیوں لڑکیوں کو میں نے سب کے سامنے کہا تم ہمارے ملک کے پیسے ضائع کرو گی تم لڑکیاں بزدل ہو اور وہ سب ایتھلیٹ کوئی پوزیشن کا لے سکیں اور مجھے گرو بابا اور بی بی نیوز رپورٹر کا نام دیا گیا.
اس کے علاوہ ایک واقع بہت یادگار رہا میرا پہلا پیریڈ جغرافیہ کا ہوتا تھا باقی دوستوں کا فری اور میرا تیرا پیریڈ فری باقی سب کا پنجابی کا میں دو سال پنجابی کی کلاس میں بیٹھتی رہی اور دوران لیکچر ٹیچر کو سوال کرتی تو میں جواب دیتی حاضری لگواتی جب سالانہ بورڈ کے پیپرز ہوئے تو پنجابی اور جفرافیہ کا ایک دن پیپر تھا سٹاف روم سے جفرافیہ اور پنجابی کی ٹیچر کمرہ امتحان میں وزٹ کے لیے اکھٹی آ گئی انھوں نے ہال میں پوچھا پیپر آسان ہے اور دھیان سے کریں اب ہال میں بہت سی لڑکیاں پنجابی مضمون کی اور بیس پچیس لڑکیاں جغرافیہ کی۔ پہلے جغرافیہ کی ٹیچر مس شائستہ نے کہا دھیان سے پیپر کریں سارے سوال نصاب سے ہی ہیں۔ اس کے بعد پنجابی کی ٹیچر مسز فاخرہ شجاع نے کہا پیپر آسان ہے تو کچھ لڑکیوں نے کہا مس پنجابی کہاوتوں کا مطلب بتا دیں تو ہم تشریح کر لیں گے مسز فاخرہ شجاع نے کہا مجھے اجازت نہیں ہے بتانے کی لیکن ایگزیمنر کی اجازت سے کوئی سٹوڈنٹ بتا سکتی ہے مس نے اونچی آواز میں کہا کہاں ہے نبیلہ تو میں کھڑی ہو گئی اور دوسری لڑکیوں تو مطلب بتا دیا اور اپنا نقصان کر بیٹھی دونوں ٹیچر میں بحث شروع ایک کہے پنجابی کی ہے دوسری ٹیچر کہے جغرافیہ کی سٹوڈنٹ ہے دونوں ٹیچرز کہتی ہیں دو سال کلاس حاضری ہے میرے پاس جس وجہ سے ایگزیمنر نے میرا پیپر روک دیا اور کہا مجھے پہلے ویری فیکیشن دیں یہ پنجابی کی ہے یا جغرافیہ کی سٹوڈنٹ۔ جغرافیہ کی ٹیچر نے کہا پہلے کھیلتے سے منع کرتی تھی اب پنجابی کی کلاس والا معاملہ کیا کرتی ہو نبیلہ اکبر زندگی کو سیریس لو۔
پھر کلرک آفس سے ویری فائی کرنے کے بعد معاملہ رفع دفع ہوا اور پھر میں نے باقی کا پیپر حل کیا لیکن میرا ٹائم ضائع ہوا۔ جب رزلٹ آیا تو پورے کالج میں جغرافیہ میں دوسرے نمبر پر میرے مارکس آئے جغرافیہ میں لیکن ٹیچر نے خوب ڈانٹا اور کہا اگر گیمز میں حصہ نا لیتی تو سبجیکٹ میں ٹائپ کرتی۔ بہت سے اور بھی خوش گوار واقعات ہیں لیکن سب کوٹ کرنا ممکن نہیں۔
*سیرو سیاحت کی شوقین ہیں ؟ اب تک کون سے مشہور سیاحتی مقامات گھوم چکی ہیں ؟
سیر و سیاحت کا شوق تو ہے لیکن زندگی نے اتنی فرصت نہیں دی گھوم پھر سکتی۔ میری خواہش تھی کہ زندگی میں پہلا غیر ملکی سفر کرنے کا موقعہ ملے تو حج یا عمرہ کا سفر کروں تو اللہ تعالیٰ نے یہ خواہش بھی پوری ہوئی اور ستمبر 2022ء میں عمرہ کی سعادت نصیب ہوئی۔ اب حج کا ارادہ ہے اللّٰہ تعالیٰ دعا ہے میری یہ خواہش بھی پوری ہو پورا پاکستان تو نہ دیکھ سکی پنجاب کے کچھ شہر مری ، اسلام آباد ، راولپنڈی ،فورٹ منرو ، ڈیرہ غازی خان ، ملتان سخی سرور، بورا وہاڑی ، کہروڑ پکا ، لودھراں ، سیالکوٹ ، ڈسکہ ، سمبڑیال ، گجرات ، گجرانوالہ ، فیصل آباد ، سرگودھا ، پشاور ، سوات ، ایبٹ آباد، اٹک دیکھے۔ فورٹ منرو بہت خوب صورت جگہ ہے اور اسٹیل کا پل منفرد بنا ہے۔ پُرسکون علاقہ ہے ہماری حکومت کو فورٹ منرو کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ ہمارا ملک بہت خوبصورت ہے آللہ تعالیٰ نے چار موسم دیئے۔ پہاڑ ، سرسبز علاقے ، دریا، ساحل سمندر ، منفرد محل وقوع کھیت کھلیان ، معدنیات بہت سی نعمتیں عطا کیں۔
*آپ کے مطابق اگر زندگی کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ جملہ کیا ہوگا ؟
” میں ٹوٹی بار بار اے زندگی پر ہاری نہیں ہوں”
*زندگی کا وہ دور جب کوئی قیمتی شے کھو گئی ہو تو خود کو کیسے موٹیویٹ کیا ؟
مادی چیزیں کوئی معنیٰ نہیں رکھتیں لیکن زندگی میں آپ کے اپنے آپ کی ساری دنیا ہوتے ہیں جب آپ کی دنیا کھو جائے تو ایسے لگتا ہے آپ کی زندگی ہی ختم والدین کے دنیا سے رخصت ہونا ناقابلِ فراموش دکھ ہے۔ ان کا کوئی نعم البدل نہیں وہ چلے گئے تو کبھی وآپس نہیں آئیں گے۔ خاص کر ماں کے بعد ایسے لگتا تھا زندگی ختم ہو گئی پھر ماں ہی کی نصیحتیں دوبارہ جینے کی وجہ بنی ۔
*آپ نے حال ہی میں اپووا کانفرنس سیالکوٹ میں شرکت کی اس حوالے سے کچھ کہنا چاہیں گی ؟
اپووا ادبی کانفرنس بہت شاندار رہی کسی دوسرے شہر میں جا کر کامیاب کانفرنس کرنا اپووا کا خاصا ہے بلاشبہ اپووا ادب کی صحیح معنوں میں خدمت کر رہی ہے۔ دوسرا اپووا ممبرز کا دس بارہ گھنٹے مل کر سفر کر یادگار رہا بہت سے ممبرز کو جاننے کا موقع ملا
*لکھنے والوں کے لیے کوئی پیغام ؟
نئے لکھنے والوں سے گزارش ہے سینئرز کو پڑھیں ان سے سیکھنے کا جب بھی موقع ملے تو سیکھیں۔ کیونکہ ہمیشہ مواقع نہیں ملتے بہت سی تنظیمیں فروغ ادب کے لیئے کام تو کر رہی ہیں لیکن حوصلہ افزائی چند ہی کرتی ہیں نئے لکھاریوں کے لیے۔ اپووا کی مثال سامنے ہے بہت سے غیر معروف لکھاریوں کو پہچان دی۔
*اپنا کوئی پسندیدہ کلام جو قارئین کے ساتھ شئیر کر سکیں ۔
میں زیادہ تر نثری تصانیف پر کام کرتی ہوں۔ سچی کہانیوں کی ایک کتاب جسے مرتب کیا معروف ادیب و صحافی فضل حسین اعوان نے کتاب کا نام ہے ،،، موت سے زندگی تک کا سفر ،،،اس میں مشہور لوگوں کے ساتھ پیش آنے والے سچے واقعات کو شامل کیا گیا میں نے بھی تین چار سچے واقعات کو کہانی کی صورت میں لکھے جو اس کتاب میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ہلکے پھلکے انداز میں آزاد نظم پر کبھی کبھار طبع آزمائی کرتی ہوں ایک آزاد نظم جس کا عنوان ہے ۔
*دلاسہ*
میں رحمت کی بشارت
میں ہمت کی ڈھارس
میں محبت کی چاشنی
میں باد صبا کا جھونکا
پر حالاتِ ستم کی بے رُخی میں ماری گئی ہوں
میں ٹوٹی بار بار پر ہاری نہیں ہوں
میرے وجود زن کی در و دیوار پر
لکھی گئی محبت کی داستانیں بہت
میں چاہتی تھی صلہ رحمی
پر دھتکاری گئی ہوں
میں ٹوٹی بار بار پر ہاری نہیں ہوں
یہ نظم بہت لمبی ہے ایک اور میں نے اپنی ماں کے لیے لکھا کلام
*میری ماں*
وہ انمول تھی بے مثال تھی
پر میرے دکھوں کی ڈھال تھی
وہ ہنستی تھی ہنساتی تھی
یونہی زندگی میں رنگ بھر لاتی تھی وہ اک ایسی ہستی تھی
جو ہمارے دلوں میں بستی تھی
اس کے دم سے سب رشتے ناطے تھے
آنگن میں پھول اس کی خوشبو سے مہکتے تھے
وہ لاڈ پیار لٹاتی تھی ڈانٹ بھی پلاتی تھی
اچھائی کا پاٹ ماں ہی پڑھاتی تھی
بھری دنیا میں وہ سینے سے لگاتی تھی
صرف ماں کو ہی میری فکر ستاتی تھی
وه دن کتنے نایاب تھے جب تو میرے ساتھ تھی
تیرے دست شفقت سے جب میں شفا
یاب تھی
پھر ایک دن ویران کر گئی میری در و بام کو
بجھا گئی میری خوشیوں کی برسات کو
لوٹ آ ماں تیری یاد ستاتی ہے
آنکھوں میں اشکوں کی جھڑی چھڑ جاتی ہے
تیرے آنچل کی چھاؤں چھن جانے سے
یہ دنیا دن میں تارے دکھاتی ہے
کیسے بھلاؤں تجھے پیاری ماں تو لوٹ آ
نہیں تو کوئی رستہ بتا یا پاس اپنے بلا
نبیلہ اکبر
معزز قارئین امید ہے کہ آپ کو آج کا انٹرویو پسند آیا ہوگا ۔ اگلے انٹرویو تک میزبان رشنا اختر کو اجازت دیجیئے دعاؤں میں یاد رکھئیے ۔ اللّٰہ حافظ
771 total views, 9 views today
























وااااہ ماشاءاللہ ماشاءاللہ زبردست انٹرویو ماشاءاللہ ۔ نبیلہ آپ تو چھا گئیں ۔ ماشاءاللہ بہت مزہ آیا ۔
نبیلہ اکبر کاانٹرویو پڑھا بہت اچھا لگاان کے بارے میں جان کر اپووا کی اچھی کاوش ہے