انٹرویو لاریب اقراء

السلام علیکم معزز قارئین!
میزبان رشناء اختر حاضر ہے ایک زبردست سے انٹرویو کے ساتھ ۔ اس بار ہماری مہمان لکھاریہ ہیں محترمہ لاریب اقراء صاحبہ تو چلیئے گفتگو کا سلسلہ شروع کرتے ہیں ۔

السلام علیکم! کیسی ہیں آپ ؟

وعلیکم السلام! الحمدللہ میں ٹھیک ہوں ۔

* کُچھ اپنے بارے میں بتائیے ۔

میرا نام لاریب ہے، اور قلمی نام لاریب اقراء ہے۔
میں بی ایس ماس کمیونیکیشن کی طالبہ ہوں، اور ساتھ ہی قرآن پاک کی تفسیر کر رہی ہوں۔میری پیدائش کبیر والا، ضلع خانیوال میں ہوئی، لیکن حال ہی میں میں اپنے خاندان کے ساتھ لاہور منتقل ہو چکی ہوں۔
لکھنے سے پہلے، میں پڑھنے کے سفر کا ذکر کرنا چاہوں گی۔
میرے لیے میگزین اور ناول پڑھنا ایک بہت مشکل کام تھا، کیونکہ جہاں سے میرا تعلق تھا، وہاں ناولز پڑھنے والی لڑکیوں کو بہت برا سمجھا جاتا تھا۔ اور اوپر سے مجھے ناولز خریدنے کا شوق بھی بہت تھا۔ جب میں نے انٹر کیا، تو میرے گھر میں ایک بڑی سی الماری تھی، جس میں آٹھ سو کے قریب ناولز اور اسلامی کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔
میرے لکھنے کا سفر 2014 کے بعد شروع ہوا۔
ٹھیک کہتے ہیں، جدائی موت سے زیادہ اذیت ناک ہوتی ہے۔
میں نے اپنے جان سے پیارے والد کو کھو دیا تھا۔
مجھے دنیا میں سب سے زیادہ محبت اپنے والد سے تھی۔ ان کا جانا میرے لیے اذیت ناک تھا۔بس پھر ان کی یاد میں، اپنی سکول کی کاپیوں پر کچھ لکھتی، کبھی پیجز پر اور پھر انہیں پھاڑ دیتی، کیونکہ مجھے اپنی فیلنگز سمجھ نہیں آتی تھی کہ اگر کوئی پڑھے گا تو وہ مجھ پر ترس کھائے گا۔
پھر کچھ وقت گزرا، موبائل آیا، تو فیس بک آئی ڈی پر تحریریں لکھنا شروع کردیں، اپنے والد کے لیے، اور مزاح سے بھرپور پوسٹیں کرتی۔ لیکن ان دنوں ایک نیوز پیپر کے ایڈیٹر کو میرے والد کی داڑھی پر لکھی پوسٹ بہت پسند آئی، اور انہوں نے وہ پبلش کر دی، اور کر کے مجھے بھی سینڈ کردی۔
2017 سے میرا لکھنے کا سفر شروع ہوا۔اس طرح میرا ادب سے تعلق دل کی گہرائیوں سے بن گیا، اور میں نے ہمیشہ اپنی تحریروں کے ذریعے جذبات اور کہانیوں کے ذریعے معاشرتی مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔

*پسندیدہ ادبی شخصیات کون سی ہیں جنہیں زیادہ پڑھتی ہیں ؟

ادبی شخصیات:

مرزا غالب، الطاف حسین حالی، میر تقی میر ٬پریم چند، اشفاق احمد، بانو قدسیہ، احمد فراز، فیض احمد فیض، پروین شاکر، ولیم شیکسپیئر، لیو ٹالسٹائی، فیوڈور دستوئیفسکی، ارنسٹ ہیمنگوے، اور چارلس ڈکنز۔

اسلامی شخصیات:
مولانا روم، شیخ سعدی، علامہ اقبال، اور مولانا ابوالکلام آزاد۔

* ادب کے فروغ کے لیے کون سے اقدامات ضروری ہیں ؟

ادب کے فروغ کے لیے کئی اہم اقدامات کیے جا سکتے ہیں، جن میں سب سے پہلے کتب بینی کے شوق کو پروان چڑھانا شامل ہے، کیونکہ مطالعہ ادب کا پہلا زینہ ہے۔ تعلیمی اداروں میں نصاب کے ذریعے معیاری ادبی تخلیقات کو متعارف کروایا جائے، تاکہ نئی نسل ادب کی خوبصورتی اور گہرائی کو سمجھ سکے۔ عوامی سطح پر مشاعرے، سیمینارز اور کتابوں کی رونمائی جیسے پروگرام منعقد کیے جائیں، تاکہ لکھنے والے اپنے جذبات اور خیالات کو سامعین تک پہنچا سکیں اور ادب کو نئی جہتیں مل سکیں۔

لائبریریاں علم اور ادب کا خزانہ ہیں، اس لیے شہروں اور دیہات میں جدید سہولتوں سے مزین لائبریریاں قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نئے لکھاریوں کے لیے مواقع اور پلیٹ فارمز مہیا کیے جائیں، جہاں وہ اپنی تخلیقات پیش کریں اور رہنمائی حاصل کریں۔ ساتھ ہی، آن لائن پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کیا جائے تاکہ ادب کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا جا سکے۔ تربیتی ورکشاپس اور ادبی محافل کے ذریعے معاشرے میں ادب کی قدروں کو زندہ رکھنے کی کوشش کی جائے، کیونکہ ادب نہ صرف ہماری تہذیب کا عکس ہے بلکہ ہمارے جذبات، خیالات اور خوابوں کا آئینہ بھی ہے۔

*فرصت کا بہترین استعمال کیسے کرتی ہیں ؟

فرصت کے اوقات میں مجھے کتابیں پڑھنا بے حد پسند ہے، خاص طور پر قرآن پاک کی تفسیر کا مطالعہ کرنا دل کو سکون اور روح کو تازگی بخشتا ہے۔ اس کے ساتھ اذکار کرنا اور اللہ کی یاد میں وقت گزارنا میری روحانی تسکین کا ذریعہ ہے۔ میں اپنی زندگی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سیرت کے مطالعے سے روشنی بخشنے کی کوشش کرتی ہوں، اور انبیاء علیہم السلام کی زندگی کے واقعات پڑھ کر اپنی زندگی کے لیے رہنمائی حاصل کرتی ہوں۔ یہ سب معمولات نہ صرف میرے اوقات کو بامقصد بناتے ہیں بلکہ میرے دل و دماغ کو سکون اور روشنی فراہم کرتے ہیں۔

*زندگی کا دیا ہوا کوئی ایک سبق جو ابھی تک کار آمد ثابت ہوا ہو ؟

زندگی کا سب سے قیمتی سبق جو میرے لیے کارآمد ثابت ہوا، وہ یہ ہے کہ مشکلات کو کبھی شکست نہ سمجھیں، بلکہ انہیں ایک نیا موقع جانیں۔ میں نے سیکھا ہے کہ ہر تکلیف کے پیچھے کوئی نہ کوئی سبق چھپاہوتا ہے اور ہر اندھیری رات کے بعد صبح کا آغاز ہوتا ہے۔ صبر، شکر اور محنت کی طاقت کو تسلیم کرتے ہوئے، میں نے اپنے راستوں میں آنے والی رکاوٹوں کو اپنے سفر کا حصہ سمجھا۔ اللہ کی ذات پر یقین اور مثبت سوچ نے ہمیشہ مجھے نئی قوت دی، اور یہ سبق مجھے ہر مرحلے پر ثابت قدم رکھتا ہے کہ کامیابی ہمیشہ وہی حاصل کرتا ہے جو مشکلات میں بھی امید اور حوصلے کو نہ چھوڑے۔

*وگوں کے بارے میں کیا راۓ ہے ؟ موجودہ معاشرہ کس قسم کا ہے ؟

موجودہ معاشرہ مختلف قسم کی تبدیلیوں اور چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ لوگ اب زیادہ خودغرض، جلدباز اور مادی چیزوں کی طرف مائل نظر آتے ہیں۔ بہت سوں کی نظر میں ترقی کا معیار دولت اور سماجی مقام بن چکا ہے، جس کی وجہ سے انسانوں کے آپس میں تعلقات میں کمی آئی ہے۔ اخلاقی اقدار، جیسے کہ دوسروں کے ساتھ احترام اور محبت، کچھ کمزور ہوئی ہیں۔ لیکن ساتھ ہی معاشرہ میں بہت سے لوگ ابھی بھی اعلیٰ اخلاقی معیاروں کو اپنانا چاہتے ہیں اور اپنے تعلقات میں سچائی، شرافت اور ایمانداری کو ترجیح دیتے ہیں۔ انفرادی سطح پر، بہت سے لوگ اپنی زندگی میں بہتری لانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن مجموعی طور پر، معاشرتی دباؤ اور بیرونی عوامل کی وجہ سے یہ تبدیلیاں آنا مشکل ہو رہا ہے۔

*آپ کی شائع شدہ کتب کے نام ؟

میں نے ابھی تک 8 اینتھالوجی کی کتابوں میں کام کیا ہے اور حال ہی میں ان کتب میں شراکت کی ہے: “ہدایت کے موتی”، “سکون قلب”، “سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم”، “حق کی راہ”، “اپووا بائیو گرافی”، “صدائے مرقد انبیاء”، اور “وطن کا عشق خون میں ہے”، “رمزحیات”۔

*اب تک کتنے ایوارڈ اپنے نام کر چکی ہیں ؟

الحمد اللہ، میں نے مختلف اداروں سے چھ ایوارڈز حاصل کیے ہیں اور تقریباً 120 کے قریب سندیں اور سرٹیفکیٹس بھی حاصل کی ہیں، جو میری محنت اور لگن کی گواہی ہیں۔

*کیا عصر حاضر میں ادبی محافل اپنے تقاضے پورے کر رہی ہیں ؟

جی، عصرِ حاضر میں ادبی محافل اپنی بھرپور جدوجہد سے ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان محافل نے نہ صرف نوجوانوں کو ادب سے جوڑنے کا ذریعہ فراہم کیا ہے بلکہ مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے ادب کو قریب لانے میں بھی معاون ثابت ہوئی ہیں۔

جدید ٹیکنالوجی کے استعمال نے ان محافل کو مزید فعال بنا دیا ہے، جہاں آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے عالمی سطح پر ادیبوں اور قارئین کو جوڑنے کا موقع ملتا ہے۔ یہ محافل نئی تخلیقات کو روشناس کرانے، ادبی مباحث کو فروغ دینے، اور معاشرتی مسائل پر روشنی ڈالنے کا ذریعہ بن رہی ہیں۔

اگرچہ بہتری کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے، مگر ان محافل کی مثبت پیش رفت اور نوجوانوں کی شمولیت خوش آئند ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ محافل ادبی ورثے کی حفاظت اور نئے رجحانات کو فروغ دینے میں کامیاب ہو رہی ہیں۔

*آج خود کو کہاں دیکھتی ہیں ؟

آج میں خود کو ایک مسافر کے طور پر دیکھتی ہوں، جو علم، تجربے اور کردار کی روشنی میں اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے۔ میں اس بات سے بخوبی واقف ہوں کہ راستہ کٹھن ہے اور منزل بلند، مگر میرا دل شکر اور عاجزی سے معمور ہے کہ میرا رب مجھے سیکھنے، سمجھنے اور آگے بڑھنے کے مواقع عطا کر رہا ہے۔ میں اپنے آپ کو ایک قطرے کی مانند محسوس کرتی ہوں، جو سمندر بننے کی خواہش تو رکھتا ہے، مگر اپنی حقیقت سے غافل نہیں۔ میری تمام تر کامیابیاں اسی کی عطا ہیں، اور میں دعاگو ہوں کہ وہ مجھے ہمیشہ عاجزی اور شکر کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھنے کی توفیق دے۔

*سیرو سیاحت کی شوقین ہیں ؟ اب تک کون سے مشہور سیاحتی مقامات گھوم چکی ہیں ؟

میں سیروسیاحت کی شوقین نہیں ہوں، بلکہ میرے دل کا سکون میرے گھر کی چار دیواری میں ہے۔ میں نے اپنی زندگی کے 23 سال ایک چھوٹے سے قصبے، کبیر والا، میں گزارے ہیں، لیکن سچ کہوں تو میں نے اپنے اس قصبے کو بھی مکمل طور پر نہیں دیکھا۔ میری زندگی اسکول، کالج، مدرسہ، بازار، اسپتال، اور بینک جیسے چند ضروری مقامات تک محدود رہی ہے۔

لاہور میں بھی میں صرف ضرورت یا کسی تقریب کے سلسلے میں ہی گھر سے باہر نکلتی ہوں۔ مجھے اپنے گھر کو سنوارنے، اپنے پیاروں کے ساتھ وقت گزارنے، اور گھر کے سکون سے لطف اندوز ہونے کا شوق ہے۔ میرے لیے میرے گھر کی اپنائیت اور پرسکون ماحول دنیا کی کسی بھی جگہ سے زیادہ عزیز ہے، اور یہی میری ترجیح ہے۔

*آپ کے مطابق اگر زندگی کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ جملہ کیا ہوگا ؟

اگر مجھے اپنی زندگی کو ایک جملے میں بیان کرنا ہو، تو میں خود کو ایک بہادر اور حوصلہ مند انسان کہوں گی، جو زندگی کے ہر طوفان کو ہمت اور امید کے ساتھ گزرنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ میں نے اپنی مشکلات کو اپنی طاقت بنایا ہے اور ہر چیلنج کو ایک سبق سمجھ کر آگے بڑھتی رہی ہوں۔ میری زندگی کا سفر صرف جینا نہیں، بلکہ دوسروں کے لیے بھی روشنی اور امید کا ذریعہ بننا ہے۔

* زندگی کا وہ دور جب کوئی قیمتی شے کھو گئی ہو تو خود کو کیسے موٹیویٹ کیا ؟

میں نے اپنی زندگی کی سب سے قیمتی چیز، اپنے والدین کو کھو دیا، اور وہ دکھ ایسا تھا جس نے مجھے اندر سے ہلا کر رکھ دیا۔ لیکن کبھی کبھی انسان اپنے اندر ایسی طاقت چھپی ہوئی پاتا ہے جس کا اسے خود بھی علم نہیں ہوتا۔ جب بھی میں ٹوٹی، تو اپنے آنسوؤں کو خود صاف کیا اور اپنے دل میں یہ کہا کہ میرے والدین نے مجھے کبھی کمزور نہیں بنایا۔ وہ تو ہمیشہ چاہتے تھے کہ میں ہر میدان میں سب سے آگے رہوں، اور میری ہمت کبھی کم نہ ہو۔

ان کے جانے کے بعد جب سب کچھ تاریک لگ رہا تھا، تو میں نے اپنی زندگی کو نئے سرے سے شروع کیا۔ میں نے دوبارہ تعلیم حاصل کی، جو لڑکی کبھی اپنے آپ میں گم رہتی تھی، اس نے لوگوں سے ملنا سیکھا اور دنیا کے رنگوں کو پہچانا۔ میں نے جانا کہ میری مسکراہٹ اور میرے آنسوؤں کی اصل وجہ میں خود ہوں، اور کسی کی یہ ہمت نہیں کہ مجھے رلا سکے۔

لیکن اس سب میں ایک شخص کا کردار سب سے نمایاں ہے، اور وہ ہے میرے بھائی رانا توفیق احمد۔ ان کا کردار میری زندگی میں روشنی کی مانند ہے۔ انہوں نے نہ صرف مجھے سچ کی پہچان کروائی بلکہ اپنی محبت اور رہنمائی سے مجھے ہر قدم پر سہارا دیا۔ وہ مجھے ڈانٹتے بھی، سمجھاتے بھی، اور میری زندگی کی اصل حقیقتوں سے روشناس کرواتے رہے۔ اگر میری زندگی میں کسی کا سب سے زیادہ ہاتھ ہے تو وہ میرے بھائی کا ہے، اور ان کے لیے میری دعائیں ہمیشہ بے شمار رہیں گی۔ ان کی رہنمائی کے بغیر میری زندگی میں یہ تبدیلی ممکن نہ ہوتی۔

*اپووا کے لیے کچھ کہنا چاہیں گی؟

اپووا ایک ایسا ادارہ ہے جس کی اہمیت انسان کی زندگی میں بالکل اسی طرح ہے جیسے پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ادارہ ہر رائٹر کے لیے ایک روشن مینار کی مانند ہے، جو اسے آگے بڑھنے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اگر اس ادارے کے لوگوں کو کوئی نام دیا جائے تو وہ اخلاق، عاجزی، خلوص اور محبت کا حسین امتزاج ہوگا۔

جب میں اپووا کے لوگوں سے ملی، تو مجھے یہ سمجھ آیا کہ دنیا میں ایسے دلوں کے لوگ بھی ہوتے ہیں جو بے حد خوبصورت ہوتے ہیں، اور ان کی موجودگی میں تلخی اور کڑواہٹ کا کوئی گزر نہیں۔ اس ادارے کے ساتھ جڑنے کے بعد، میں نے جانا کہ جہاں ادب کی روشنی ہو، وہاں کیسی بھی تلخی نہیں ہو سکتی۔ اپووا کے لوگ مثبت سوچ، محبت اور مدد کا پیغام دیتے ہیں، اور ان کی ہمدردی نے میرے دل کی تمام تاریک جگہوں کو روشن کر دیا۔

آج میں اس ادارے کا ایک حصہ بن کر، ڈپٹی سیکرٹری کوارڈینیشن (خواتین ونگ) کے طور پر کام کر رہی ہوں، اور یہ میرے لیے ایک خواب کی تکمیل سے کم نہیں۔ یہ ادارہ رائٹرز کی اتنی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ انسان اپنے قلم کو روک نہیں سکتا، اور لکھنے کی جستجو میں مگن ہو جاتا ہے۔

اللہ تعالٰی اپووا کو بے پناہ ترقی دے، اور سر علی کا سایہ ہمیشہ اس ادارے کے تمام ممبرز پر قائم رکھے۔ آمین ثم آمین۔

* لکھنے والوں کے لیے کوئی پیغام ؟

لکھنے والوں کے لیے میرا پیغام یہی ہے: جب بھی قلم اٹھاؤ، ہمیشہ مثبت لکھو۔ یاد رکھو، برائی جتنی زیادہ پروان چڑھے گی، وہ اتنی ہی پھیلتی جائے گی، لیکن اگر ہم اپنی تحریروں کے ذریعے اچھائی کو فروغ دیں، تو وہ دنیا کو بدلنے کی طاقت رکھتی ہیں۔ ایک اچھا لکھا ہوا لفظ کسی کی زندگی بدل سکتا ہے، ایک مثبت سوچ کسی کی تقدیر تبدیل کر سکتی ہے۔

ہم سب کا مقصد ہونا چاہیے کہ ہم ایسی تحریریں تخلیق کریں جو نہ صرف دوسروں کی آنکھوں کو کھولیں بلکہ ان کے دلوں میں بھی ایک نیا جذبہ پیدا کریں۔ کوشش کریں کہ آپ کی ہر تحریر کسی کو اس بات کا احساس دلائے کہ زندگی میں ہر مشکل کے بعد آسانی آتی ہے، اور ہر غم کے بعد خوشی کا موقع ضرور آتا ہے۔

ہمیں اپنی تحریروں کے ذریعے دنیا کو یہ بتانا ہے کہ انسان کی سب سے بڑی طاقت اس کا دل اور دماغ ہے، اور جب وہ مثبت سوچ کے ساتھ قدم بڑھاتا ہے، تو کوئی بھی مشکل اس کا راستہ نہیں روک سکتی۔

* اپنا کوئی پسندیدہ کلام جو قارئین کے ساتھ شئیر کر سکیں

” مثبت وائب ”

(Positive Vibe)

آپ تب تک نہیں ہار سکتے جب تک خود ہار نہ مان لیں۔
زندگی کبھی بھی کسی کے لیے بھی پھولوں کی سیج نہیں ہوتی۔ بہتر ہے وہ شخص جو ہر پریشانی، دکھ، اور تکلیف کو یہ سمجھ کر قبول کر لے کہ یہ سب زندگی کا حصہ ہے۔

سب سے مشکل کام ہے خود کو دوسروں کے لیے مثبت رکھنا۔
کہنے کو تو یہ بہت آسان الفاظ ہیں، اور میں نے ان الفاظ کی سختی کو تب محسوس کیا جب مجھے کسی نے برا بھلا کہا۔ اور میں خاموشی سے مسکرا دی۔
مجھے اپنی مثبت وائب زندہ رکھنا تب مشکل لگا جب میں نے جانا کہ لوگ وہ نہیں ہوتے جو ہمارے سامنے ہوں۔ اور پھر ان سے ویسے ہی خوش اخلاقی سے بولنا مشکل تو تھا، پر ناممکن نہیں۔
ہاں، مشکل تو تھا، پر میں نے کر لیا۔
میں کسی بھی انسان کے پیچھے اپنے اندر کی مثبت وائب ختم نہیں ہونے دے سکتی۔

You cannot give up until you admit defeat yourself.
Life is never a bed of roses for anyone. It is better to be the person who accepts every worry, pain, and suffering, understanding that these are all part of life.

The hardest thing is to remain positive for others.
Saying it is easy, but I felt the weight of these words when someone spoke ill of me. I just smiled quietly.
Keeping my positive vibe alive became challenging when I realized that people are not always who they seem to be in front

معزز قارئین! امید ہے کہ آپ کو انٹرویو پسند آیا ہوگا اگلے انٹرویو تک میزبان رشناء اختر کو اجازت دیجیئے دعاؤں میں یاد رکھیئے ۔ اللّٰہ حافظ

1,266 total views, 3 views today

6 Responses to انٹرویو لاریب اقراء

  1. لاریب اقراء says:

    جزاک اللّہ

  2. Sajjad ali bhinder says:

    اسلام علیکم آپی
    سب سے پہلے تو آپ کے والد محترم کے ایصال ثواب کے لئے دعائے مغفرت ۔
    اللّٰہ تعالیٰ جنت الفردوس میں درجات بلند فرمائے ۔
    آمین ثم آمین یا رب العالمین
    دوسرا ماشاءاللہ آپ ایک باہمت خاتون ہیں اور دنیا کے بارے میں اپنے نظریات میں اعلیٰ افکار کی مالک ہیں ۔
    جس کی بدولت آپ کو ذہنی سکون ملتا ہے ۔
    اللّٰہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ شاد و آباد رکھے ۔
    بہت اچھا لگا آپ کا انٹرویو پڑھ کر ۔
    ڈھیروں دعائیں آپ کے لیے

  3. Sajjad ali bhinder says:

    Best of luck api

  4. ماریہ سحر says:

    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔۔

    لاریب نا صرف ایک اچھی لکھاری ہے بلکہ ایک بہترین دوست بھی ہے ۔ سب سے خوش اخلاقی سے پیش آتی ہے ۔اکثر لکھاری جب آگے بڑھتے ہیں تو جواب دینا چھوڑ دینا دیتے ہیں ۔ لیکن یہ خاتون ہمیشہ اپنے مفید مشوروں سے مستفید ہونے کا شرف دیتی ہے۔
    میری دعا ہے اللّٰہ آپ کو ڈھیروں کامیابیوں سے نوازے اور آپ اسی طرح قدم اٹھاتی جاؤ

    گی امان اللہ

    • عائشہ شکیل says:

      ماشاءاللہ 🥰
      پیاری اللہ تمہیں سلامت رکھے اور مزید کامیابیاں عطا فرمائے اور تم ایسے ہی زندگی میں سرخرو ہو آمین۔ بہت سی نیک تمنائیں لاریب اقرا

  5. Haram says:

    Best of luck Laraib hmesha khush raho or kamyabiyan smaito JB me tum SE mili mje ni idea tha k me aik itni bri writer SE mili hn but Jo bhi tym tumhare sath guzara bht Acha tha tumhari mere sath bnai hui pics abi b mere Pas Hain me tumhen miss krti hn …… Khush raho keep it up .

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *