انٹرویو شازیہ حنیف

السلام علیکم معزز قارئین! میزبان رشناء اختر حاضر ہے ایک نئے انٹرویو کے ساتھ ۔ آج ہماری مہمان ہیں محترمہ شازیہ حنیف صاحبہ ۔ تو چلیئے بغیر وقت ضائع کیے گفت گو کا سلسلہ شروع کرتے ہیں ۔

السلام علیکم! کیسی ہیں آپ ؟

وعلیکم السلام! اللّٰہ کا شکر ہے ٹھیک ہوں .

* کُچھ اپنے بارے میں بتائیے ۔

میں ایک ٹیچر ہوں ـ اردو ادب سے خاصا لگاؤ ہے ـ اس کے علاوہ گرافک ڈیزائنر، مصنفہ، شاعرہ اور خطاط ہوں ـ ادب اور کتب سے اس قدر لگاؤ ہےکہ دنیاداری سے بہت حد تک دور ہوں ـ

*پسندیدہ ادبی شخصیات کون سی ہیں جنہیں زیادہ پڑھتی ہیں ؟

: علامہ اقبال / احمد فراز کی شاعری

* ادب کے فروغ کے لیے کون سے اقدامات ضروری ہیں ؟

جہاں تک ادب کے فروغ کا تعلق ہے ہمیں سب سے پہلا قدم تو یہ اٹھانا چاہیے کہ تمام پبلک اور پرائیویٹ سکولوں، کالجوں میں ہر ماہ ادبی پروگرام منعقد کروائے جائیں تاکہ بچوں کو ادب و شعور کا پتہ چل سکے کیونکہ ہمارے بچے صرف سلیبس کی کتب کی حد تک ہی محدود رہ چکے ہیں ادبی پروگرام منعقد ہونے سے ان میں کچھ شوق پیدا ہوگا، لائبریریوں کے قیام کی طرف توجہ دی جائے ـ اس کے علاوہ دوسرا سب سے اہم اور احسن اقدام سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ ہے ـ

*فرصت کا بہترین استعمال کیسے کرتی ہیں ؟

اول تو یہ کہ فرصت کا وقت ہی نہیں مل پاتا دن رات کام میں مگن رہتی ہوں اور اگر مل جائے تو دوست سے بات چیت کرلیتی ہوں اس کے علاوہ مختلف میگزینز کے ڈیزائن تیار کرنے لگ جاتی ہوں ـ

* زندگی کا دیا ہوا کوئی ایک سبق جو ابھی تک کار آمد ثابت ہوا ہو ؟

جی بالکل اس کا مدلل جواب دینا چاہوں گی ـ میں نے دوسروں کی خاطر بہت کچھ کیا، ان کے فائدے کیلیے، ان کی بلندیوں کیلیے، کچھ مقدس رشتے نبھانے کیلیے یہاں تک کہ اپنا کچھ بھی نہ سوچا اور پھر مجھے اس مخلصی اور محنت کے بدلے ایسا سبق ملا کہ آپ کسی کی خاطر کئی راتوں کی نیندیں حرام کرلیں، جتنی محنت کرلیں، جتنے لگن سے ان کے فائدے کیلیے کام کرلیں اور پھر آپ یہ سوچیں کہ بدلے میں کچھ ملے گا تو یہ محض وہم ہے آپ کا کوئی کچھ نہیں دےگا ـ سبق یہ ملا کہ سب سے پہلے اپنا سوچو یہ دنیا والے کچھ نہیں دیں گے ـ میں نے یہ سبق پاکر خود کو بدل لیا ہے ـ

*لوگوں کے بارے میں کیا راۓ ہے ؟ موجودہ معاشرہ کس قسم کا ہے ؟

لوگ مفاد پرست ہیں ـ جب تک ان کے کام کرتے رہو گے بہت اچھا سمجھیں گے، بہت عزت دیں گے لیکن جب کام ہوجائے گا تب آپ کو ٹھکرا دیں گے اور کسی متبادل کی تلاش کریں گے اور پھر پہلے والے کی کوئی جگہ ہو گی نہ ہی عزت ـ وہ پچھلا کیا ہوا سب کچھ بھول جائیں گے جو آپ نے ان کے لیے اتنی مشکلات جھیل کرکیا تھا ـ کسی خاص موقع پر آپ کو سب سے آخر پر کرنا درکنار بلانا بھی گوارا نہیں کریں گے ـ جہاں تک معاشرے کی بات ہے ـ ہمارا معاشرہ کچھ اس طرح ہے کہ مخلص اور ایماندار شخص کو ذہنی مریض تصور کریں گے کیونکہ آج کے دور میں مخلص اور ایماندار ملنا بہت مشکل ہے اور جو چالاک ہوں گے ان کے پیچھے پیچھے چلیں گے، انہی کو عزت دیں گے اور ہر موقع پر وہی مدعو ہوں گے اور منظورِ نظر انہی کو کریں گے ایک شریف اور مخلص کو ٹھکرا دیں گے ـ

آپ کی شائع شدہ کتب کے نام ؟

میں کچھ مجبوریوں کی وجہ سے اپنی ذاتی کتب شائع نہیں کروا سکی مگر کئی کتب میں افسانے اور کالمز شائع ہو چکے ہیں ـ آل پاکستان رائٹرزکی طرف سے کتب میں، مختلف غیرملکی میگزینز میں ـ

*اب تک کتنے ایوارڈ اپنے نام کر چکی ہیں ؟

میرے کمرے میں ایوارڈز اورکتب اور تدریسی معاونات کے سوا کچھ بھی نہیں ـ تقریباََ پچیس تک ایوارڈز لے چکی ہوں جن میں آدھے کیش ایوارڈز ملے ہیں ـ

*کیا عصر حاضر میں ادبی محافل اپنے تقاضے پورے کر رہی ہیں ؟

جی بالکل پوری دلجمعی اور ذمہ داری کے ساتھ ـ وقت نا ہوتے ہوئے بھی ادبی محافل کیلیے نکال رہی اور الحمدللہ مجھے بہت زیادہ عزت ملی ہے نہ صرف پاکستان میں بلکہ پاکستان سے باہر بھی ـ

* آج خود کو کہاں دیکھتی ہیں ؟

الحمدللہ، الحمدللہ ، اس رب العزت کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ آج میں وہاں ہوں جہاں ہونے کا کبھی وہم و گمان میں بھی نہیں تھا ـ

*سیرو سیاحت کی شوقین ہیں ؟ اب تک کون سے مشہور سیاحتی مقامات گھوم چکی ہیں ؟

سیروسیاحت کا شوق نہیں ہے کوشش یہی ہوتی ہے کہ کہیں نہ جاؤں ـ

*آپ کے مطابق اگر زندگی کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ جملہ کیا ہوگا ؟

” زندگی کی کامیابی کیلیے ہار جانا کوئی جرم نہیں لیکن ہارجانے کے ڈر سے ارادہ ترک کردینا جرم ہے”

*زندگی کا وہ دور جب کوئی قیمتی شے کھو گئی ہو تو خود کو کیسے موٹیویٹ کیا ؟

پہلی بار جب میرا بھائی اس دنیا سے چلا گیا ـ دوسری بار جب امی چلی گئی اور تیسری بار میں نے بہت مشکلات دیکھیں اس وقت میں نے بس اللہ پہ چھوڑ دیا کہ وہی انصاف کرے گا اور پھر اس پاک ہستی نے ایسا انصاف کیا کہ آج مجھے ذرا سی بھی پریشانی نہیں ہے لیکن شاید اس وقت کو میں کبھی بھی نہیں بھول پاؤں گی ـ پھر اللہ پہ سب کچھ چھوڑ کر خود کو حوصلہ دیا اور اللہ پاک نے آج ان لوگوں سے زیادہ نوازا ہے لیکن اچھے وقت کا انتظار ہے ـ

*اپووا کے لیے کچھ کہنا چاہیں گی؟

جواب: اپووا ادب کو فروغ دینے کے لیے ایک بہت بڑی تنظیم ہے میرے خیال.سے ایسی تنظیم کو ” سفیران ادب ” کا نام دینا چاہیے ـ اپووا نے تمام لکھاریوں کو زینت بخشی ہے ـ

* لکھنے والوں کے لیے کوئی پیغام ؟

ادب کو فروغ دینے میں لکھاری سب سے قیمتی سرمایہ ہیں ـ ادب کے ماتھے کا جھومر ہیں ـ

*اپنا کوئی پسندیدہ کلام جو قارئین کے ساتھ شئیر کر سکیں ۔

ایک تازہ نظم لکھی ہے ـ

یوں نہ استادوں کو ستایا جائے

حاکم وقت کو پیغام پہنچایا جائے

رہنما ہیں ہمارے یہ محسن ہیں

ان کا حق ان کو دلایا جائے

انہی کے ہاتھوں سے تراشے ہو

یہ مقتدران ایونوں کو بتایا جائے

عزت نفس سبھی کو ہے عزیز

یوں ان کا سرعام تماشا نہ بنایا جائے

ان کو عام نہ سمجھو رہبر ہیں ہمارے

جن کو سڑکوں پہ ہر روز بلایا جائے

اس دیس میں تعلیم پھیلانے کے لیے

ستم گروں کے فیصلوں کو گرایا جائے

اس جہاں میں نہ سہی اگلے جہاں میں

لیں گے استاد بدلہ انہیں یہ بتایا جائے

معزز قارئین امید ہے کہ آپ کو انٹرویو پسند آیا ہوگا اگلے انٹرویو تک میزبان رشناء اختر کو اجازت دیجیئے دعاؤں میں یاد رکھئیے ۔ اللّٰہ حافظ

615 total views, 3 views today

3 Responses to انٹرویو شازیہ حنیف

  1. فائزہ شہزاد says:

    بہت اچھا لگا مگر کافی تشنگی سی محسوس ہوئی ۔۔ کچھ اپنے بارے میں ، اپنی تعلیم ، اپنی جائے پیدائش ، کچھ فیملی کے بارے میں بھی بتایا جاتا تو اچھا لگتا ۔۔ دراصل یہ ایسی بنیادی باتیں ہیں جن کے بارے میں قاری کو پڑھنا اچھا لگتا ہے ۔۔ اور آپ کی بات سے سو فیصد متفق ہوں کہ ” سب سے پہلے اپنے بارے میں سوچنا چاہئے دوسروں کے لئے جتنا مرضی کر لو کچھ فائدہ نہیں ہوتا اُلٹا اپنا نقصان ہی کر لیتے ہیں ـ

  2. سدرہ says:

    ما شا اللہ بہت اچھا لگا آپ کا انٹرویو پڑھ کے اور لوگوں کے بارے میں جو راۓ آپ نے دی ہے اس سے سو فیصد اتفاق کرتی ہوں اللہ تعالی آپ کو مزید کامیابیاں عطا فرماۓ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *