انٹرویو عروج درانی

السلام علیکم معزز قارئین! میزبان رشناء اختر حاضر ہے ایک زبردست سے انٹرویو کے ساتھ ۔ ہماری آج کی مہمان شاعرہ ہیں محترمہ عروج درانی صاحبہ ۔ تو چلیئے بغیر وقت ضائع کیے گفت گو کا سلسلہ شروع کرتے ہیں ۔

السلام علیکم! کیسی ہیں آپ ؟
وعلیکم السلام! میں ٹھیک ہوں ۔ بہت شکریہ آپ نے یاد کیا ۔

*کچھ اپنے بارے میں بتائیے.

جی میرا نام عروج درانی ہے اور میں شاعرہ ہوں این سی اے سے گریجویٹڈ ہوں گرافک ڈیزائنر ہونے کے ساتھ ساتھ انٹیریئر ڈیزائنر بھی ہوں.

*آج کل خودرو شعراء سوشل میڈیا پر کافی تعداد میں پاۓ جاتے ہیں جو کاپی پیسٹ اور اے آئی ٹول کے ذریعے شہرت پا رہے ہیں ۔ آپ اس بارے میں کیا کہیں گی ؟

ٹیکنالوجی کے خلاف ہرگز نہیں ہوں میرا یہ ماننا ہے کہ نئی ٹیکنالوجی سے اپ کو ضرور مستفید ہونا چاہیے لیکن پوزیٹو وے میں اب جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے انسانوں کے بہت سے کام اسان ہو گئے ہیں ہاں اگر شعراء اپنے کلام کو کاپی پیسٹ کرتے ہیں اگر اے ائی ٹیکنالوجی کا استعمال غلط طریقے سے کرتے ہیں تو ایسے شعراء کی بھی پہچان ہو جاتی ہے مختلف ادبی محافل مشاعروں میں ایسے شعراء کی ادائیگی سے ہی پتہ چل جاتا ہے کیونکہ نئی ٹیکنالوجی جتنی بھی جدید ہو جائے اس میں پھر بھی کچھ کسر رہ جاتی ہے اور اگر کسی نے سیکھا نہیں ہے تو پتہ چل جاتا ہے۔

*پسندیدہ ادبی شخصیات کون سی ہیں جنہیں زیادہ پڑھتی ہیں ؟

پسندیدہ ادبی شخصیات میں پروین شاکر صاحبہ احمد فراز صاحب فیض احمد فیض صاحب قتیل شفائی اور موجودہ دور میں ڈاکٹر یونس خیال عاطف جاوید عاطف نوید صادق صاحب شامل ہیں

*ادب کے فروغ کے لیے کون سے اقدامات ضروری ہیں ؟

ادب کے فروغ کے لیے مشاعروں کا انعقاد بھی ایک اچھی کوشش ہے اس کے علاوہ میرے خیال میں دنیائے ادب کے بڑے بڑے ناموں سے بھی ہمیں مستفید ہونا چاہیے ایسی تنظیمیں بنائی جائیں جو ان کی خدمات سے مستفید ہوں ان کو بلائیں اور نئے لکھنے والے جتنے بھی شعراء ہیں ان کو ان سے سیکھنے کا موقع دیں اور میرے خیال میں اس کے لیے ان کو اماؤنٹ دینی چاہیے تاکہ وہ زیادہ دلجمی کے ساتھ نئے لکھنے والوں کو سکھا سکیں۔

*فرصت کا بہترین استعمال کیسے کرتی ہیں ؟

فرصت کے لمحوں میں میں موسیقی سنتی ہوں زیادہ تر غزلیں ہر طرح کی موسیقی میں سن لیتی ہوں موڈ پر منحصر ہوتا ہے کہ کیا موڈ ہے۔

*زندگی کا دیا ہوا کوئی ایک سبق جو ابھی تک کار آمد ثابت ہوا ہو ۔

آپ کی زندگی میں بہت سے لوگوں سے ملتے ہیں اور ہر شخص اپ کو کچھ نہ کچھ سکھا کر جاتا ہے میں لوگوں پر اندھا اعتماد کرتی ہوں جس کی وجہ سے کافی نقصان اٹھایا میں نے اور میں نے اپنی غلطیوں سے یہی سیکھا کہ ہر شخص قابل اعتماد نہیں ہوتا۔

*لوگوں کے بارے میں کیا رائے ہے ؟ موجودہ معاشرہ کس قسم کا ہے ؟

میں لوگوں کے بارے میں کبھی نیگٹو نہیں سوچتی میرے خیال میں اچھے برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں برے لوگ بھی اپ کو زندگی کا سبق دے جاتے ہیں اور اچھے لوگوں سے بھی اپ بہت کچھ سیکھتے ہیں میں موجودہ معاشرے سے مایوس نہیں ہوں بلکہ موجودہ معاشرہ تو اب زیادہ باشعور ہو چکا ہے۔

*آپ کی شائع شدہ کتب کے نام ؟

میری کتاب انشاءاللہ بہت جلد منظر عام پر ائے گی ۔

*اب تک کتنے ایوارڈ اپنے نام کر چکی ہیں ؟ کیا عصر حاضر میں ادبی محافل اپنے تقاضے پورے کر رہی ہیں ؟

بانو قدسیہ ایوارڈ بزم علم و ادب کی جانب سے کل پاکستان ایوارڈ وحیدی کلب کی جانب سے وحید مراد ایوارڈ اور اپوا تنظیم کی جانب سے بہترین شاعرہ کا ایوارڈ الحمدللہ! جی کچھ تنظیمیں ہیں جو مخصوص لوگوں کو اپنے مشاعروں میں انوائٹ کرتے ہیں اور وہی مخصوص چہرے اپ کو بار بار دیکھنے کو ملتے ہیں جو کہ میرے خیال میں انتہائی غلط روایت ہے لیکن ایسی تنظیمیں بھی ہیں جو نئے شعراء کو موقع دیتی ہیں کو موقع دیتی ہیں جیسا کہ ہماری تنظیم ارباب خیال سر یونس خیال اس بات کو ہمیشہ یقینی بناتے ہیں کہ نئے شعراء کو موقع دیا جائے اس کے علاوہ سر نوید صادق صاحب کی تنظیم کارواں وہ بھی بہت اچھا کام کر رہی ہے نئے لکھنے والوں کو نئے شعرا کو پورا پورا موقع دیا جاتا ہے ہر طرح کی تنظیمیں پاکستان میں موجود ہیں۔

*آج خود کو کہاں دیکھتی ہیں ؟

الحمدللہ میں اپنی موجودہ پوزیشن سے بہت بہت خوش ہوں اس عمر میں میں نے چار ایوارڈ اپنے نام کیے ہیں پاکستان اور پاکستان سے باہر بہت سے لوگ مجھے جانتے ہیں پاکستان کی تقریبا تمام ادبی تنظیموں سے منسلک ہوں اخبارات میں میرا کلام تسلسل سے شائع ہوتا رہتا ہےدو سال کی قلیل مدت میں میں نے اپنا بہت نام بنایا ہے اور میں اپنے اپ کو ابھی اور زیادہ اونچائی پر دیکھتی ہوں کہ ایک دن انشاءاللہ پوری دنیا ادب کے حوالے سے میرے نام سے واقف ہوگی۔

*سیرو سیاحت کی شوقین ہیں ؟ اب تک کون سے مشہور مقامات گھوم چکی ہیں ؟

سیر و سیاحت کا مجھے بہت شوق ہے پورے پاکستان کے تمام تفریحی مقامات کی سیر کر چکی ہوں ناران کاغان نتھیا جھیل سیف الملوک وغیرہ وغیرہ

*آپ کے مطابق اگر زندگی کو ایک جملے میں بیان کیا جاۓ تو وہ جملہ کیا ہوگا ؟

زندگی امتحان لیتی ہے ۔

*اپووا کے لیے کچھ کہنا چاہیں گی ؟

اپوا بہت بڑی تنظیم ہے شعبہ ادب سے منسلک لوگوں کے کام کے اعتراف میں جس طرح سے اپوا تنظیم نے ان کو ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا ہے یہ ایک انتہائی بڑا اقدام ہے اس سلسلے میں اپوا تنظیم کی کاوشوں کو جتنا سراہا جائے کم ہے۔

*نئے لکھنے والوں کے لیے کوئی پیغام ؟

نئے لکھنے والوں کو یہیں پیغام ہے کہ وہ شارٹ کٹ کا سہارا نہ لیں شارٹ کٹ کا سہارا وقتی سہارا ہوتا ہے ہر علم کو سیکھ کر اور سمجھ کر اگے بڑھیں اور محنت سے ہرگز نہ گھبرائیں۔

*اپنا پسندیدہ کلام جو قارئین کے ساتھ شئیر کر سکیں ۔

دیکھنے میں حسین لگتے ہیں
خواب تو دل نشین لگتے ہیں

پل میں انکھوں کا درد جان گئے
اپ کتنے ذہین لگتے ہیں

عمر بھر کی یہ قید ہوتی ہے
لفظ کہنے کو تین لگتے ہیں

دل کے پہلو میں ہم نے دیکھا ہے
اپ گوشہ نشین لگتے ہیں

دل پہ دستک ہے کون ایا ہے
دھڑکنوں کے مکین لگتے ہیں

معزز قارئین! امید ہے کہ آپ کو یہ انٹرویو پسند آیا ہوگا ۔ اگلے انٹرویو تک میزبان رشناء اختر کو اجازت دیجیئے دعاؤں میں یاد رکھئیے ۔ اللّٰہ حافظ

905 total views, 3 views today

3 Responses to انٹرویو عروج درانی

  1. سجاد علی بھنڈر says:

    بہت خوب آپی

  2. Samina Tahir Butt says:

    ماشاءاللہ ماشاءاللہ بہت خوب

  3. شہزاد حسین بھٹی، صحافی، کالم نگار، مصنف says:

    ماشاء اللہ ۔ عروج دُرانی صاحبہ کے بارے میں کچھ آگاہی ہوئی۔ بہت اچھا کلام پڑھتی ہیں۔ انداز ادائیگی کافی متاثر کُن ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *