انٹرویو رفعت شوکت
السلام علیکم معزز قارئین!
میزبان رشناء اختر حاضر ہے ایک نئے انٹرویو کے ساتھ ۔ اس بار ہماری مہمان لکھاریہ ہیں محترمہ رفعت شوکت صاحبہ تو چلیئے بغیر وقت ضائع کیے گفت و گو کا سلسلہ شروع کرتے ہیں ۔
السلام علیکم!
وعلیکم السلام!
* کُچھ اپنے بارے میں بتائیے ۔
میں ضلع ننکانہ صاحب کے شہر بچیکی کے ساتھ ایک گاؤں سے تعلق رکھتی ہوں۔ میری تعلیم ایم ۔ایس۔سی سائیکالوجی ہے اور فی الحال بی۔فارمیسی کا کورس بھی کر رہی ہوں۔ اس کے علاؤہ میں نے جناح ہسپتال میں بطور سائیکلوجسٹ تین ماہ انٹرنشپ کی ہوئی ہے۔ میڈیکل کے شعبے سے منسلک رہنے کا شوق ہے مگر میں ادبی خدمات بھی سر انجام دینے کے لیے بھی خواہشمند ہوں۔ مزید یہ کہ میں ایک پرائیویٹ ادارے میں بطور استانی کام کرتی ہوں اور بچوں کو خطاطی سیکھاتی ہوں۔ میری زندگی کا بیشتر حصہ مصروف رہنے میں گزرا ہے۔لہذا، میں خود کو کسی نہ کسی سرگرمی میں مصروف رکھتی ہوں۔میرا ماننا ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کا کوئی بھی پل بغیر ضائع کیے جینا چاہیے۔ اچھے برے حالات زندگی کا حصہ ہیں مگر انسان وہی بہادر ہے جو اپنے برے وقت سے اور برے حالات سے سیکھتا ہے اور آنے والے وقت کے لیے خود کو تیار رکھتا ہے۔
مزید میں کالم نگاری اور افسانہ نگاری کرتی ہوں۔ میں ڈھائی سال سے کالم لکھ رہی ہوں۔ کرک ٹائمز، افلاک ، عوامی تبصرہ پر کالم شائع ہوتے رہتے ہیں۔ مزید لکھنے کا شوق ہے تو میں لکھتی ہی رہتی ہوں۔ بس جو بھی کیفیت ہو ،اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں قلم پکڑتی ہوں اور اپنے الفاظ قرطاس پر بکھیر دیتی ہوں۔
* پسندیدہ ادبی شخصیات کون سی ہیں جنہیں زیادہ پڑھتی ہیں ؟
میں بچپن سے ہی لکھنے پڑھنے کی شوقین ہوں۔ میں نے کم عمری میں کئی ڈائجسٹ پڑھے ہیں جیسے کہ کرن ،شعاع ،آنچل مشہور ہیں۔ مگر ہوش سنبھالتے ہی میں نے عمیرہ احمد اور نمرہ احمد کے ناول پڑھے ہیں تو یہی میری پسندیدہ شخصیات ہیں۔ مگر ادبی حلقوں میں قدم رکھنے کے بعد مجھے کئی شخصیات نے متاثر کیا ہے۔ ان میں میم صائمہ اکرم چوہدری ،محترم افتخار احمد افی صاحب، اتباف ابرک صاحب ہیں۔ مجھے شاعری کا زیادہ شوق نہیں تھا مگر میں اتباف ابرک کی شاعری کو شوق سے پڑھتی ہوں۔ اب مزید وقت کے ساتھ ساتھ تمام ادبی شخصیات کو پڑھ رہی ہوں اور یقیناً یہ سب میرے لیے معتبر ہیں۔
* ادب کے فروغ کے لیے کون سے اقدامات ضروری ہیں؟
آج کل سوشل میڈیا کی وجہ سے ہمارا ادب کھو چکا ہے۔ مطلب یہ کہ پہلے کتابیں ہوتی تھیں تو شوق سے خریدتے تھے اور پڑھتے تھے اور آج کل اگر کوئی مفت میں کتاب بھی تحفہ دے رہا ہے تو لوگ اس کی بھی قدر نہیں کرتے اور کتابیں شیلفوں میں سجا دی جاتی ہیں۔ ادب کے فروغ کے لیے لازمی ہے کہ سوشل میڈیا کا ایک حد تک استعمال کیا جائے۔ اگر استعمال کرنا ضروری ہے تو ادبی شخصیات سے متعلق پڑھا جائے یا پھر تاریخی کتب کا مطالعہ کیا جائے۔ “پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور یہ بے شمار قربانیوں کے بعد حاصل ہوا ہے”۔ یہ جملہ رٹ لیا گیا ہے مگر اسکے مفہوم سے بہت ہی کم لوگ آشنا ہیں۔ لوگوں تہذیب وثقافت ، شریعت ، حقوق وفرائض ، انسانیت ،منصفانہ پہلوؤں سے با خبر ہیں۔ بس مصنوعی آسائشوں میں مبتلا ہو کر ادب کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ تو ادبی فروغ کے لیے ضروری ہے کہ ہماری نوجوان نسل کو تعلیم و تربیت کے فوائد کا شعور دیا جائے۔ ادب راہیں استوار کی جائیں اور سوشل میڈیا کے لیے قوانین لاگو کیے جائیں۔ بچوں کے ہاتھوں میں موبائل دینے کی بجائے کتاب تھمائی جائے اور ساتھ بڑوں کو بھی کتب کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
*فرصت کا بہترین استعمال کیسے کرتی ہیں ؟
میں نے زندگی کو اتنا مصروف کر رکھا ہے کہ مجھے پلک جھپکنے کا بھی وقت نہیں ملتا۔ میں بطور استانی کام کرتی ہوں اور گھر میں کورس کی کتابیں پڑھتی ہوں اور آن لائن کلاسسز لیتی ہوں۔ اگر پھر بھی وقت مل جائے تو میں کیلی گرافی کرتی ہوں۔ میں ڈائری لکھنے کی عادی ہوں۔ میں اکثر سکول کے بچوں کے مسائل لکھتی ہوں اور پھر ان کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ یا پھر رات کے وقت میں کوئی اسلامی کتاب پڑھ لیتی اور پانچ وقت کی نماز کے ساتھ میں رات کو قرآن پاک کی تلاوت کرنے کی عادی ہوں۔
*زندگی کا دیا ہوا کوئی ایک سبق جو ابھی تک کار آمد ثابت ہوا ہو ؟
زندگی نے مجھے ایک اہم سبق سکھایا ہے جو کہ “صبر کرنا” ہے. میں اگر اپنے مزاج کے خلاف کوئی بات سن لوں تو میں نظر انداز کرتی ہوں اور صبر کی آیات پڑھتی ہوں۔ الحمدللہ میں پرسکون زندگی گزار رہوں کیونکہ میں نے برے حالات سے سیکھ کر اچھے وقت کو خوش آمدید کہا ہے۔ میں خود بھی اور دوسروں کو بھی صبر کی تلقین کرتی ہوں کیونکہ میں دوسروں کی طرح انتقام لینے کی ہمت نہیں رکھتی تو اللہ رب العزت پر بھروسہ رکھ کر زندگی جیتی ہوں۔
*لوگوں کے بارے میں کیا راۓ ہے ؟ موجودہ معاشرہ کس قسم کا ہے ؟
موجودہ معاشرہ تلخ رویوں سے بھرا پڑا ہے۔ میں بطور سائیکالوجسٹ یہ بات جانتی ہوں کہ آج کل ڈپریشن ،انزائٹی کے بہت سے کیس ہیں اور دنیا میں زیادہ تر لوگ ڈپریشن کا شکار ہیں۔ اگر مجھے کوئی بات بری لگے یا کوئی مجھے اذیت بھی دے تو میری یہی کوشش ہوتی ہے کہ میں اس انسان کو یا برے رویے کو نظر انداز کروں۔ میں بھرے مجمے میں کھڑا ہونا پسند نہیں کرتی تو میری کوشش ہوتی ہے کہ میں سب کے ہی کام آؤں مگر میں الگ ہی رہوں۔ اس لیے میں لوگوں کو سر پر حاوی نہیں کرتی۔ یہ بھی ایک تجربے کی بات ہے مگر میں انتہائی حساسی لڑکی ہوں۔ اور مجھے لوگوں کے رویے بہت تکلیف دیتے ہیں۔ یہ سب سہہ سہہ کر اب میں نے خود کو مضبوط کر لیا ہے کہ اب خود کی ذات کو سب سے الگ تھلگ رکھوں گی۔
*آپ کی شائع شدہ کتب کے نام ؟
فی الحال میں نے تین انتھالوجی میں لکھا ہے ،امن کی چھاؤں میں ، عصمت حوا کا عکسِ گمشدہ، اور اپوا کی انتھالوجی صدائے مرقد انبیاء میں لکھا ہے جو کہ بہت جلد شائع ہو جائے گی۔ مزید یہ کہ میں نے اپنی کتاب ابھی تک شائع نہیں کروائی مگر بہت جلد منظر عام ہو گی۔( ان شاءاللہ تعالیٰ)
*اب تک کتنے ایوارڈ اپنے نام کر چکی ہیں ؟
مجھے ڈھائی سال ہو گئے ہیں ادبی خدمات سر انجام دیتے ہوئے تو مجھے ابھی تک اپوا تنظیم کی طرف سے دو میڈلز اور سرٹیفکیٹیس مل چکے ہیں۔ اس کے علاؤہ صحافتی خدمات سر انجام دینے پر بھیل انٹرنیشنل گولڈ میڈل حاصل ہوا ہے۔ باقی میں مختلف اکادمی ادبیات سے منسلک ہوں تو مجھے سافٹ فارم میں سرٹیفیکیٹس ملتے رہتے ہیں۔ کیونکہ میں ہر وقت کسی نہ کسی سرگرمی میں مصروف رہتی ہوں تو مجھے سندیں ملتی رہتی ہیں۔ مجھے سیکھنے کا بہت شوق ہے اس لیے میں خود کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھتی ہوں۔
* کیا عصر حاضر میں ادبی محافل اپنے تقاضے پورے کر رہی ہیں ؟
جی! جن اداروں سے میں منسلک ہوں تو میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ کچھ ادبی حلقے اپنے تقاضے پورے کر رہے ہیں۔ اور کچھ ادارے ایسے ہیں جہاں ادبی شخصیات سے سیکھنے کی توقع کی جائے تو ان کی مصروف ترین زندگی کی وجہ سے وہ ادب کو فروغ نہیں دے پاتے۔ جیسا کہ آج کل کے اس نفسانفسی کے دور میں سب ہی مصروف ہیں مگر میرا ماننا ہے کہ اگر ادبی حلقے ہر شہر میں موجود ہوں تو نوجوان نسل کو ہم ادبی خدمات سر انجام دینے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔
* آج خود کو کہاں دیکھتی ہیں ؟
ہر ولی کا ایک ماضی ہوتا ہے مگر میرا ماضی اتنا بھیانک نہیں تھا۔ ہاں مگر تلخ ضرور تھا کیونکہ گاؤں میں معاشرہ کافی تنگ نظری کا شکار ہے۔ تو پڑھائی لکھائی کو اہمیت نہیں دی جاتی تھی مگر مجھے پڑھنے کا شوق تھا۔ الحمدللہ مجھے میرے گھر والوں نے کافی سپورٹ کیا۔ میری ہر ضرورت پوری کی تو آج میں شعور کے اس مقام پر ہوں جہاں رشتے دار ،میرے گھر والے اور دوست مجھ دیکھ کر رشک کرتے ہیں اور میرے لیے دعائیں کرتے ہیں۔ میں بھی اپنی زندگی سے اپنی قسمت سے خوش ہوں اور مشکل وقت میں صبر کرتی ہوں تو اللہ مجھے مزید نوازتا ہے۔
*سیرو سیاحت کی شوقین ہیں ؟ اب تک کون سے مشہور سیاحتی مقامات گھوم چکی ہیں ؟
مجھے سیرو سیاحت کا بچپن میں شوق تھا مگر لوگوں کی تنگ نظری سوچ کی وجہ سے ہم گاؤں والوں کو باہر نکلنے کا موقع نہیں ملتا تھا۔ اس لیے میں نے زندگی سے سمجھوتہ کیا اور تعلیم کے سفر میں رواں دواں رہی ہوں۔ اسلام آباد میرا پسندیدہ شہر ہے تو میں دو بار اسلام آباد اور مری کی سیر کر چکی ہوں۔ اسلام آباد مجھے امام بری گاہ پسند ہے تو وہاں ہی جانے کی خواہش مند رہتی ہوں۔ مزید زندگی نے موقع دیا تو بیرون ملک ترکی اور عراق جانے کی خواہش رکھتی ہوں۔
*آپ کے مطابق اگر زندگی کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ جملہ کیا ہوگا ؟
زندگی کھٹی میٹھی کیفیت کا نام ہے جو کہ خوش رہنے والوں کو بھلی لگے گی اور اداس باشندوں کو تلخ لگے گی۔
“جان ہے تو جہان ہے۔ یہی مطلب زندگی کا
*زندگی کا وہ دور جب کوئی قیمتی شے کھو گئی ہو تو خود کو کیسے موٹیویٹ کیا ؟
زندگی پانے اور کھونے کا نام ہے۔ قدرت کا اصول ہے کہ ہر جاندار نے فنا ہونا ہے مگر میرے تایا ابو کی موت کا صدمہ میں نہیں بھول سکتی۔ وہ ایک بہترین مثالی باپ تھے اور اصولوں کے پابند تھے۔ وہ سخت مزاج تھے مگر فطرتاً وہ نیک دل تھے۔ ان کی زندگی اور بیماری سے میں نے صبر و برداشت کرنا سیکھا ہے۔ کیونکہ وہ زندگی کے آخری ایام میں بھی مضبوط رہے تھے تو میرا ماننا ہے کہ وہی انسان بہادر ہے جو اپنے حصے کی جنگ میں بھی خود کو ثابت قدم رکھے اور اپنے پیاروں کو جدائی کے غم کے حوصلے بھی دے۔ فقط میرا بھی یہی اصول ہے کہ ہر دکھ سکھ میں خود کی اندر کی جنگ سے لڑنا ہے اور اللہ کی ذات پر بھروسہ رکھ کر زندگی کو گزارنا ہے۔ اور دوسروں کے نظریات سے تنقید نہیں کرنا بلکہ اپنے نظریات کو پروان چڑھانا ہے تاکہ میری موت کے بعد بھی میری شخصیت زندہ رہے۔ (ان شاءاللہ تعالیٰ)
* اپووا کے لیے کچھ کہنا چاہیں گی؟
اپوا تنظیم کے لیے میری ڈھیروں دعائیں اور نیک تمنائیں ہیں۔ میں اس تنظیم کا حصہ بن کر قائدانہ صلاحیتوں کا استعمال کرنا چاہوں گی۔ میری دعا ہے اللہ پاک اس تنظیم کو دن دگنی رات چگنی ترقی عطاء فرمائے آمین ثم آمین یارب العالمین۔
* لکھنے والوں کے لیے کوئی پیغام ؟
لکھنے والوں کے لیے میرا اہم پیغام ہے کہ ہمیشہ حق سچ پر لکھیں۔ دوسروں کے نظریات پر اگر آپ متفق نہیں ہیں تو کوشش کریں کہ اپنی نظریات کو پروان چڑھائیں اور زبردستی کسی ذات پر بھی اپنے نظریات مسلّط نہیں کریں۔ ہر انسان آزاد پیدا ہوا ہے اور آزادی چاہتا ہے تو تمام لکھنے والوں سے میری مختصر سی گزارش ہے کہ ادبی حلقوں میں قدم رکھنے والے ہر فرد کو اہمیت دیں اور حوصلہ بڑھائیں تاکہ لکھنے اور داد دینے کا سلسلہ یوں ہی رواں دواں رہے۔ اور خیر کا کام کرتے رہیں۔
* اپنا کوئی پسندیدہ کلام جو قارئین کے ساتھ شئیر کر سکیں ۔
میری یہ ایک نظم ہے جو میں نے خود کو متحرک رکھنے کے لیے لکھی تھی۔
(سنو !!کامیابی کے جگنو )
سنو!!
تمہیں پانے کے لیے میں نے ناکامی کو تسلیم کیا۔۔
تمہیں پانے کے لیے میں نے حادثات کو گلے لگایا ۔۔
تمہاری چاہ کی خاطر، موت کو قریب سے دیکھا ۔۔
تمہارے جشن کے لیے دن رات میں نے خود کو تھکایا۔۔
مگر میں جانتی ہوں تم میرے نام کے مخالف رہی ہو ۔۔
میں نے تجھے ہی پانے کے لیے خود کو خوب ستایا ۔۔
سنو ! مجھے یاد ہے جس دن تم میرے پاس ٹھہری
اور مجھے پانے کے لیے میرے نام کے ساتھ روبرو چلی
اور جب تم نے چپکے سے میرے کانوں میں گنگنایا۔۔
کہ محنت کے بعد ہی فلک کی چادر میں بلندی ہے
سنو! اس ہی دن مجھے علم ہوا،میرے نام کا مفہوم ۔۔
رفعت تو بلندی ہے جو کامیابی کے بعد ہی ممکن ہے ۔
سنو ! پھر مجھے تمہارے پیچھے چلنے کی رغبت ہوئی ۔۔
اور دن بہ دن رفعت کو پانے کی جستجو ہوئی ۔۔
سنو ! آج تم میری ہمدم ہو مگر یہ بات جان لو ۔۔
تمہاری چاہ کی خاطر مجھے موت کو گلے لگانا ہے۔
اور مجھے چپکے سے تمہارے راہ ہموار کرنے ہیں ۔۔
وہ دن دور نہیں جس دن تم آہٹ کا لبادہ اوڑھوں گی
اور دھیرے سے میرے شانے پر اپنا بھاری ہاتھ رکھو گی
مجھے پھر خوشی ہو گی کہ تم میرے لیے ہی بنی ہو۔
آؤ! میرے روبرو چلو اور مجھے دلاسہ دیتی رہو۔۔
تم زیست کے سراب میں میری ہو اور میری ہی رہو گی
سنو! کامیابی کے جگنو تم میرے ہو اور میرے ہی رہو گے
معزز قارئین امید ہے کہ آپ کو انٹرویو پسند آیا ہوگا ۔ اگلے انٹرویو تک میزبان رشناء اختر کو اجازت دیجیئے دعاؤں میں یاد رکھئیے ۔ اللّٰہ حافظ
582 total views, 3 views today
























بہت خوب ” رشنا ” بہت اچھا انٹرویؤ رہا اور رفعت شوکت کے بارے میں جان کر بہت اچھا لگا اللہ پاک آپ کی خواہشات کو پورا کرے آمین ثمہ آمین