کرم میں فائرنگ سے ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود سمیت پانچ افراد زخمی
خیبر پختونخوا کے حکام کے مطابق ضلع کرم میں فائرنگ سے ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود سمیت پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں جنھیں طبی امداد کے لیے مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ ’ڈپٹی کمشنر کرم پر بگن کے علاقے میں نامعلوم شرپسندوں نے فائرنگ کی۔‘
حکام کے مطابق ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود اور ان کے ہمراہ چار سکیورٹی اہلکار لوئر کرم میں حاجی علی کے علاقے میں موجود تھے جب ان پر حملہ کیا گیا۔
بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ ’ڈپٹی کمشنر کو علیزئی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ڈپٹی کمشنر کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور منتقل کرنے کے لیے بندوبست کیا جا رہا ہے۔‘
کرم میں قیام امن اور اسلحے کی حوالگی کا معاہدہ کیا ہے اور اس میں تاخیر کیوں؟
ضلع کرم میں فرقہ وارانہ فسادات: چند کنال زمین کے تنازعات جو سینکڑوں جانیں لے چکے ہیں
کئی ماہ کے تعطل کے بعد سنیچر کو کرم کے لیے ایک قافلہ روانہ ہونا تھا جس میں خوراکی اشیا سمیت دیگر سامان شامل ہے۔ تاہم بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ ’سکیورٹی خدشات کے پیش نظر فی الحال اس قافلے کو روکا گیا ہے۔‘
اس سے قبل ان کا کہنا تھا کہ 75 بڑی گاڑیوں پر مشتمل قافلہ سکیورٹی حصار میں کرم روانہ کیا جائے گا جہاں کشیدگی اور راستوں کی بندش کے باعث ادویات اور خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔
ادھر خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے اس واقعے کی مذمت کی ہے اور کہا کہ ’حملے میں ڈپٹی کمشنر کا زخمی ہونا انتظامیہ کی نااہلی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’امدادی قافلے پر فائرنگ صوبائی حکومت کی نااہلی اور ناکامی کا منھ بولتا ثبوت ہے۔‘
’کرم کے ڈپٹی کمشنر مذاکرات کے لیے جا رہے تھے‘
ضلع کرم سے ایک انتظامی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا ہے کہ ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ اور ان کے ساتھ سکیورٹی سٹاف بگن میں مذاکرات کے لیے جا رہے تھے کہ وہاں ایک چوک پر نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کر دی۔
انھوں نے بتایا کہ زخمیوں کو علیزئی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے اور اب انھیں پشاور منتقل کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مقامی انتظامی افسران گذشتہ روز بھی بگن میں مظاہرین سے مذاکرات کے لیے گئے تھے۔
کرم پولیس کے ایک اہلکار نے صحافی محمد زبیر کو بتایا کہ پانچ زخمیوں میں ڈپٹی کمشنر کرم کے علاوہ ایک پولیس اہلکار، ایک ایف سی اہلکار اور دو عام شہری شامل ہیں۔
ان کے مطابق مال بردار گاڑیوں کے قافلے کی روانگی سے قبل ڈپٹی کمشنر کرم سمیت انتظامیہ کے اہلکار ٹل چھپری سے روانہ ہوئے تھے مگر ان پر لوئر کرم میں بگن کی حدود میں فائرنگ ہوئی۔
بگن کے مقامی افراد کے مطابق یہ فائرنگ قریب آدھے گھنٹے تک جاری رہی تھی۔
276 total views, 3 views today
























Leave a Reply