جنوبی کوریا میں تاریخ کا سب سے بڑا ہلاکت خیز طیارہ حادثہ

جنوبی کوریا طیارہ حادثے میں بچ جانے والے جیجو ایئر لائن کے ایک فلائیٹ اٹینڈنٹ نے ڈاکٹروں کو بتایا ہے کہ جب انھیں ہوش آیا تب تک انھیں ملبے سے نکال لیا گیا تھا۔

اس حادثے میں مسافر اور عملے کے چار ارکان سمیت 179 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اس حادثے کے بعد دو فلائیٹ اٹینڈنٹس کو ملبے سے زندہ نکال لیا گیا تھا۔

بچ جانے والے 33 سالہ فلائیٹ اٹینڈنٹ کو پہلے ایئر پورٹ سے 25 کلومیٹر دور موکپو شہر میں ایک ہسپتال لے جایا گیا تاہم بعد میں انھیں دارالحکومت سیول کے ایوا ویمن یونیورسٹی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

ہسپتال کے ڈائریکٹر جو وونگ نے جنوبی کوریا کے خبر رساں ادارے یونہاپ کو بتایا فلائیٹ اٹینڈنٹ مکمل طور پر بات چیت کرنے کے قابل ہے۔

’فی الحال ایسے کوئی آثار نہیں کہ ان کی یادداشت پر کوئی اثر پڑا ہو۔‘

خبر رساں ادارے کے مطابق حادثے میں ان کی ہڈیاں ٹوٹی ہیں اور فالج کے خدشے کے باعث ان کی خصوصی دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔
اتوار کے روز موان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر جیجو ایئر لائن کی پرواز کو پیش آنے والا حادثہ جنوبی کوریا کی سرزمین پر ہونے والا سب سے زیادہ ہلاکت خیز طیارہ حادثہ کہا جا رہا ہے۔

جیجو ایئر جو کہ 2005 سے خدمات مہیا کرتی آئی ہے یہ اس کا پہلا طیارہ حادثہ ہے۔

جیجو ایئر ملک کی قدرِ سستی ایئر لائن کے طور پر کافی مشہور ہے۔ اس کی پروازیں جنوبی کوریا کے علاوہ ایشیا بشمول جاپان، چین، فلپائن اور تھائی لینڈ تک جاتی ہیں۔

حادثے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کا کہنا تھا کہ اس سے قبل ان کی ایئر لائن کے کسی طیارے کو کبھی کوئی حادثہ پیش نہیں آیا۔ پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے طیارہ حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے معافی بھی مانگی۔
جنوبی کوریا کے حکام کا کہنا ہے کہ دونوں بلیک باکس – فلائیٹ ڈیٹا ریکارڈر اور کاک پٹ وائس ریکارڈر – مل گئے ہیں۔

تاہم جنوبی کوریا کے خبر رساں ادارے یونہاپ کے مطابق فلائیٹ ڈیٹا ریکارڈر کو جزوی نقصان پہنچا ہے جبکہ وائس ریکارڈر صحیح حالت میں دکھتا ہے۔

ایک تفتیش کار نے ایجنسی کو بتایا ہے کہ بلیک باکس کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے اسے ڈی کوڈ کرنے ایک ماہ تک کا وقت لگ سکتا ہے۔

342 total views, 3 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *