انٹرویو تسلیم بروہی

السلام علیکم معزز قارئین!
میزبان رشناء اختر حاضر ہے ایک زبردست سے انٹرویو کے ساتھ ۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں لکھاریہ محترمہ تسلیم بروہی صاحبہ جن کا تعلق صوبہ سندھ کے شہر جیکب آباد سے ہے تو چلیئے بغیر وقت ضائع کیے گفت گو کا سلسلہ شروع کرتے ہیں ۔

السلام علیکم!

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

*کُچھ اپنے بارے میں بتائیے ۔

میرا نام تسلیم بروہی ہے۔ جنم 17 اگست 1996 کو اپنے گاؤں تحصیل گڑهی خیرو ضلع جیکب آباد میں ہوئی ۔ میرے والد کا نام شان محمد بروہی ہے جو ضلع جیکب آباد کے ایجوکیشن آفیسر ره چکے ہیں۔میں نے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کا امتحان گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج ضلع جیکب آباد سے پاس کیا۔ اور مزید اعلیٰ تعلیم کے لئے جدوجہد کو جاری رکھا۔ میں اپنی خاندان کی پہلی لڑکی ہوں جس کو علم کی میدان میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
لکھنے کا شوق مجھے پچپن سے تھا بچپن میں جب بھی کوئی واقعہ آنکھوں کی سامنے سے گزرتی اُس کو قلم بند کرتی۔ پھر دسویں جماعت سے مختلف زبانوں میں قلمی طبع آزمائی شروع کی جس میں سندھی اُردو اور براہوی زبانیں شامل ہیں۔ 2017 میں جامعہ سندھ جامشورو جی شعبہ اردو سے وابستگی ہوئی۔ جہاں سے میں نے اُردو ادب میں بی ایس کیا۔ فارغ التحصیل ہونے کے فوراً بعد میں بطور سرکاری استاد مقرر ہوئی۔ ابھی حال ہی میں نے بی۔ایڈ کیا ہے اور جامعہ سندھ جامشورو سے اردو ادب میں ایم فل کر رہی ہوں۔

*لکھنے کا آغاز کب ہوا ؟

یونیورسٹی کی سال دوم 2018 سے میں نے باقاعدہ لکھنے کا آغاز کیا۔ شعبہ اردو کے طلبہ نے اساتذہ کی نگرانی میں ایک ہفتے وار نشت کا اہتمام کیا۔ جس میں ہر پیر کے دن تمام طلبہ جو لکھنے میں دلچسپی رکھتے تھے اپنی لکھی ہوئی شاعری، افسانہ، کہانی، نظم وغیرہ کو نشت میں سناتے اور اساتذہ سے اصلاح کلام حاصل کرتے اور خوب داد ملتی۔ اساتذہ نے مجھ ناچیز کی محنت اور کوشش کو بہت سراہا اور مجھے تنظیم کا خاص ممبر بنا دیا گیا۔ اُس کے بعد زندگی کو ایک اہم مقصد قلم کے ذریعے ملا۔

*زیادہ تر کون سی صنف میں لکھتی ہیں ؟

مجھے نظم سے زیادہ نثر میں دلچسپی رہی ہے۔ زیادہ تر میں نے افسانہ نگاری اور کالم نگاری میں طبع آزمائی کی ہے۔ میں نے اب تک سیاسی، معاشی،اور معاشرتی موضوعات پر متعدد کالم اور افسانہ لکھے جو ملک کے مختلف قومی اخبارات ، رسائل اور ڈائجسٹ کی زینت بنے ہیں۔ میں نے اپنے ناقدین کی آراء کوہمیشہ سے قبول کیا ہے اور انہیں اپنی تحریروں کی اصلاح کیلئے استعمال کیا ہے۔ قومی صحافت سے وابستہ متعدد سینئر کالم نگار ،رائٹرز، پروفیسرز اور دانشوروں نے میری حوصلہ افزائی کرتے ہوئے میری تحریروں کو بےحد سراہا ہے۔
میں نے حال ہی میں ایک کتاب جو افسانوی مجموعہ پر مشتمل ہے ” تین لفظ” کے نام سے تخلیق کی ہے۔ جس میں معاشرے کی موجودہ حالات خصوصی طور پر عورتوں پر ہونے والے ظلم و سِتم کو افسانے اور کہانی کی صورت میں قلم بند کیا ہے۔
اُس کے علاوہ تقریباً چار (اتھولوجی) کتاب میں بطور مشترکہ لکھاری طبع آزمائی کی ۔سال 2023 میں مجھے پاکستان کا قومی ترانہ براہوی زبان میں ترجمہ کرنے پر بھیل انٹر نیشنل تنظیم حکومت پنجاب کی جانب سے گولڈ میڈل ملا۔

*پسندیدہ ادبی شخصیات کون سی ہیں جنہیں زیادہ پڑھتی ہیں ؟

جواب: ادب سے جُڑے ہر شخص میری پسندیدہ شخصیت ہیں۔ میں زیادہ تر شعراء میں غالب اور فیض کی پڑھتی ہوں اور نثر کی دنیا میں میری پسندیدہ نثر نگار اشفاق احمد، احمد ندیم قاسمی اور نمرہ احمد ہیں، ان کو میں زیادہ پڑھتی ہوں۔

* ادب کے فروغ کے لیے کون سے اقدامات ضروری ہیں ؟

ادب کے فروغ کےلئے ادبی میلوں اور مشاعروں کا انعقاد، نوجوان ادیبوں اور نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی پر زور دیں۔ اس سے نے صرف ادب کو فروغ ملے گا بلکہ نوجوان لکھاریوں کے اندر آگے بڑھنے کی صلاحیت اور مضبوط ہوجائے گی۔

* سندھ اور جاگیردارنہ نظام ، اس بارے میں کچھ کہنا چاہیں گی ؟

سندھ کے جاگیردارانہ نظام مجھے بچپن سے پسند نہیں ہے، کیوں کہ اس میں ہمیشہ غریب پستا ہے اور امیر اسی کا فائدہ اٹھا کر خود کو مضبوط بناتا ہے۔ اگر یہ امیر لوگ غریب کو اُن کا حق دیں، انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے اور صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کرنے کی جرات کریں تو یہ جاگیردارانہ نظام غلط نہیں۔

* فرصت کا بہترین استعمال کیسے کرتی ہیں ؟

وقت میرے لیے بہت قیمتی ہے، اس کو میں ضایع ہونے نہیں دیتی۔ فرصت کا استعمال میں نے ہمیشہ کتابوں میں صرف کیا ہے۔ اچھی کتابوں کا مطالعہ کرنا یا پھر تخلیقی کام کو دیکھنا۔

*زندگی کا دیا ہوا کوئی ایک سبق جو ابھی تک کار آمد ثابت ہوا ہو ؟

*زندگی نے مجھے بہت کچھ سکھایا ہے میں اس جواب کو قرآن پاک کی اس آیت کی مفہوم کے ساتھ دینا چاہوں گی کہ
“ہر مشکل کے بعد آسانی ہے” زندگی سے یہی سیکھنے کو ملا ہے کہ چاہے جتنی بھی مشکلات آجائے پر آخر ایک نہ ایک دن یہ ختم ہونی ہے۔

* لوگوں کے بارے میں کیا راۓ ہے ؟ موجودہ معاشرہ کس قسم کا ہے ؟

لوگوں کے بارے میں یہ کہ ہر کوئی اپنی مثال آپ ہے۔ اللہ پاک نے ہر انسان میں کوئی نہ کوئی خاصیت ضرورت رکھا ہے۔
آج کل کا معاشرہ بدنظامی کا شکار ہے، ہر کوئی یہاں اپنے لیے بھاگ دوڑ کرتا ہے، کسی کو کسی سے کوئی سروکار نہیں۔

*آپ کی شائع شدہ کتب کے نام ؟

میری پہلی کتاب افسانوی مجموعہ ” تین لفظ”

* اب تک کتنے ایوارڈ اپنے نام کر چکی ہیں؟

50 سے زائد ایوارڈ اور دو گولڈ میڈل۔

*کیا عصر حاضر میں ادبی محافل اپنے تقاضے پورے کر رہی ہیں ؟

نہیں میرے خیال میں عصر حاضر میں ادبی محافل اپنے تقاضے پورے نہیں کر رہے، یہاں محنت کی قدر نہیں، لوگ جلدی شہرت پانے کی چکر میں ایک دوسرے کو پیچھے دھکیل رہے ہیں۔

* آج خود کو کہاں دیکھتی ہیں ؟

الحمدللہ جس علاقے سے میں تعلق رکھتی ہوں وہاں سے پڑھ لکھ کر نکلنا میرے لیے بڑی دشواری کی بات تھی۔ مگر آج میں خود کو پڑھے لکھے معاشرے کا ایک اہم فرد سمجھتی ہوں.

سیرو سیاحت کی شوقین ہیں ؟ اب تک کون سے مشہور سیاحتی مقامات گھوم چکی ہیں ؟

سیر و سیاحت میری پسندیدہ مشغلہ ہیں، میں نے پورے پاکستان میں سیر و تفریح کی ہے، چاروں صوبوں میں جتنے بھی اہم مقامات ہیں، ملک کے چاروں باڈرز، ناران کاغان, کشمیر , سوات ، بلوچستان کے اہم مقامات وغیرہ۔

*آپ کے مطابق اگر زندگی کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ جملہ کیا ہوگا ؟

زندگی ایک مسلسل سفر کا نام ہے جس میں بہت سے مشاہدات اور تجربات حاصل ہوتے ہیں جو ہمیں مضبوط بنا دیتے ہیں۔

* زندگی کا وہ دور جب کوئی قیمتی شے کھو گئی ہو تو خود کو کیسے موٹیویٹ کیا ؟

نومبر 2020 میں میری جوان بہن کی ڈیتھ ہوگئی، جس نے میری زندگی کو بہت متاثر کیا، پھر میں نے اپنی فیملی کو سنبھالنے کے ساتھ ساتھ خود کےلئے کتابوں میں سہارا ڈھونڈ لی، اور خود کو مصروف رکھ کر کتابوں کی ذریعے موٹیویٹ کیا، اس میں سر قاسم علی شاہ کے کتاب میرے لیے مشعل راہ بنے۔

* اپووا کے لیے کچھ کہنا چاہیں گی؟

اپووا ایک بہترین اور فعال تنظیم ہے جو ہمیشہ سے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کی ہے اور انہیں لکھنے پر آمادہ کیا ہے۔ اپووا سے جُڑ کر میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔

* لکھنے والوں کے لیے کوئی پیغام ؟

لکھنے والوں کے نام یہ پیغام دینا چاہوں گی کہ الفاظ آپ کی اولاد ہیں، اپنے الفاظ کو اس طرح سے بیش کرو کے پڑھنے والے کی اندر ہلچل مچا دیں، اور قاری مجبور ہوجائے آپ کو پڑھنے کے لیے ۔

* اپنا کوئی پسندیدہ کلام جو قارئین کے ساتھ شئیر کر سکیں

اقتباس:
افسانہ ” اور زندگی بدل گئی”

انسان کی زندگی ہمیشہ اُن کی غلطیوں کی وجہ سے برباد ہوجاتی ہے مگر کبھی کبھی وہ ایک غلطی ہی آپ کو سدھارنے کےلیے کافی ہوتا ہے، وہ غلطی آپ کو رب سے ملا کر آپ کی زندگی کو سنوار دیتی ہے۔ بس انسان کے اندر واپس لوٹ کر اپنے رب کے طرف رجوع کرنے کی ہمت ہو۔”

معزز قارئین امید ہے کہ یہ انٹرویو آپ کو پسند آیا ہوگا اگلے انٹرویو تک میزبان رشناء اختر کو اجازت دیجیئے دعاؤں میں یاد رکھئیے ۔ اللّٰہ حافظ

984 total views, 3 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *