پکڑ کے ہاتھ تیرا جو میں نے پایا ہے شرف
ہم اپنے دوستوں سے محبت کرتے ہیں ان میں کچھ خاص دوست ایسے ہوتے ہیں جن کی تکلیف ہم سہہ ہی نہیں سکتے _
میرے پاس بس دو چار بہت خاص لوگ ہیں جن میں ایک میری اقصیٰ جانی ہے _
اقصیٰ جانی کو ضحی اپنے بہت بچپن سے ہی اقصیٰ جانی کہتی تھی تو اب ہم سب ہی اقصیٰ کو اقصیٰ جانی کہتے ہیں _
اقصیٰ جانی سے محبت کا سلسلہ بڑا پرانہ ہے _ہم نے اپنا بچپن ساتھ گزارا _ہمارا بچپن بڑا پیارا تھا _
ہم ساتھ کھیلتے تھے ساتھ کھاتے تھے اور ایک جیسے ڈریس بنواتے تھے اور اگر اقصیٰ جانی کی توجہ سارہ ‘ آمنہ ‘ یا ندا کی طرف زیادہ ہوتی تو میں اندر ہی اندر جیلسی فیل کرنے لگتی تھی یہ اور بات ہے کہ میں بتا نہیں سکتی تھی کہ میں ان سے جیلس ہوں _
جب بھی گھر میں کوئی اچھی چیز تیار ہوتی اقصیٰ ہمارے لیے نکال کر لے آتی تھی _
خالہ جی بڑی ہی با اصول تھیں _اور پڑھائی میں کوئی سمجھوتہ نہیں تھا _
گرمی اور سردی میں بہت احتیاط کا حکم تھا کہ بچے نا سردی میں باہر بیٹھیں نا گرمی میں تو جہاں ہم بیٹھ کر پڑھتے تھے اقصیٰ ہمارے ساتھ ہی بیٹھتی تھی _
اقصیٰ بہت لاڈلی تھی _ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ کسی نے اقصیٰ کو ڈانٹا ہو مگر باجی خنسا بہت پرمزاح شخصیت تھیں وه ایسے ایسے مزاح کرتیں جس سے اقصیٰ کو چڑایا جا سکتا تھا _
تو اقصیٰ کی یاداشت میں یہ خیال ہلکا ہو گا جب اس کے والد محترم فوت ہوئے ہم چھے یا سات سال کے ہوں گے _یا اس سے تھوڑا اور کم یا زیادہ _
مگر میں پوری جزئیات سے وه سارا منظر یاد کر سکتی ہوں _عمیمہ پیدا ہوئی تھی _( آج وه نہایت قابل ڈاکٹر بن چکی ہے )
عمیمہ اور عکاشہ نے بہت وقت یہاں گزارا ہے اور ان کی خالاؤں نے ان کی بنیاد بنانے میں بڑا کردار ادا کیا
مجہے یاد ہے کہ باجی خنسا اور اقصیٰ کیسے عمیمہ عکاشہ کو پوئمز اور رائمز یاد کرواتی تھیں اور ان کو کانسیپچل اسٹڈی کرواتی تھیں اور میں بتانا چاہتی ہوں عمیمہ اور عکاشہ کہ آپ کی بڑی امی اور آپ کی سب لالاؤں نے آپ سے محبت کا پورا پورا حق ادا کیا ہے _
ایک دن چھوٹی سی عمیمہ نے دروازے میں انگلی پھنسا لی تھی اور خالہ جی اسی وقت جائے نماز بچھا کر سجدے میں مشغول ہو گئی تھیں جب تک کہ عمیمہ کی چھوٹی سی انگلی با حفاظت دروازے سے نکل نا سکی اور وه پل جو خالہ جی نے تکلیف اذیت اور عمیمہ کے لیے درد محسوس کیا وه کیفيت مجہے آج بھی یاد ہے اور آپ کی سب لالاؤں نے آپ کو جان سے بڑھ کر محبت دی توجہ دی اور وقت دیا _
اقصیٰ کے ابو فوت ہوئے تو مجہے آج بھی یاد ہے ہم چھوٹے تھے تو مجہے سمجھ نہیں آتی تھی کہ میں اقصیٰ کو کیسے تسلی دوں مگر مجہے اتنا یاد ہے کہ میں اقصیٰ کو کھیلنے میں مصروف رکھنا چاہتی تھی _
پھر جب مفتی صاحب مفتی بن کر آئے تو انکے گھروں میں عید کا سامان تھا اور جلیبیاں نکلوائی جا رہی تھیں ان سب نے نئے کپڑے پہنے اور اقصیٰ کے چھوٹی ہیل والے سینڈل تھے اور اقصیٰ بڑی پیاری لگ رہی تھی _تو میں جذبات میں اقصیٰ کو پورا گاؤں دیکھانے کے لیے لے گئی کیونکہ میرے پاس یہ بڑی ایکٹویٹی ہوتی تھی کسی بھی ایونٹ پے دوستوں کے لشکر کو لے کر گاؤں میں نکل جانا
تب میں نے نمبر داروں کے دارے کے باہر لگا سرخ لمبے ناخن نما پھولوں والا درخت اقصیٰ کو دیکھانے کا فیصلہ کیا اور اقصیٰ کی ہیل پر چلنے سے گرد پڑتی تو میں اپنی ننھی سی چنی کے ساتھ صاف کر دیتی تھی
پھر آمنہ کے ابو فوت ہو گے
مجہے ابھی بھی یاد ہے ہم اقصیٰ کے پرانے ( خوابوں والے گھر )کی مسجد میں قرآن پاک پڑھ رہے تھے _
اقصیٰ کا پرانہ گھر ہمارے خوابوں ہماری بچپن کی یادوں کا مرکز تھا
اس کا پچھلا صحن میرے اور اقصیٰ کے فارغ اوقات کی سب سے دلچسپ سرگرمی تھی جب ہم مختلف موضوعات پر گفتگو کرتی تھیں _پھر وه گھر گرا دیا گیا اور جدید قصر نما محل بنا دیا گیا اس گھر سے گو کہ ہماری کوئی یاد نہیں مگر خالہ جی کی وجہ سے وابستگی تو ہے اور رہے گی _
آمنہ کے ابو فوت ہوئے تو ہم سب کو گہرا صدمہ پہنچا تھا مجہے آج بھی یاد ہے کہ باجی خنسا اور اقصیٰ آمنہ سے بہت پیار کرتی تھیں اور اس کو بہت جذباتی سهارا دیا تو اقصیٰ کی بٹی توجہ مجہے کبھی اچھی نہیں لگی تھی میں چاہتی تھی اقصیٰ کی زیادہ توجہ میری طرف رہے _
پھر چاچو پرویز فوت ہوئے تو اقصیٰ نے مجہے آئمہ اور عزیر
کو بہت جذباتی سهارا دیا تو اقصیٰ کی توجہ مجہے شروع سے بہت پسند تھی _
پھر میرے ابو بھی فوت ہو گے اور میں سوچتی ہوں کہ شکر ہے اقصیٰ نے کم سنی میں اپنے ابو کو کھویا اور وه اس زخم کی اذیت کو بہت شدت سے محسوس کرنے سے محفوظ رہی _
اور میں سوچتی تھی کہ اقصیٰ کو خالہ جی سے اتنی محبت ہے _اور خالہ جی کو کچھ ہو گیا تو اقصیٰ کیسے سہہ پائے گی _
اور میں سوچتی تھی کہ اقصیٰ کو کیسے روتا دیکھ سکوں گی ؟
اور میں اقصیٰ کو روتا دیکھ کر یہ کیسے برداشت کروں گی _
پھر میں یہ سوچتی تھی کہ سب سے زیادہ صدمہ باجی عفیفہ اور اقصیٰ کو ہو گا اور باجی عفیفہ اور اقصیٰ دونوں کا دل بہت تھوڑا ہے
اور جیسے میں سوچ رہی تھی بلکل ایسے ہی اقصیٰ اور باجی عفیفہ کو بار بار پینک اٹیک آ رہے تھے بار بار بے ہوش ہو رہی تھیں _
دوستوں کے آنسو اور ان کی تکلیف دل کو اتنی تکلیف دیتی ہے جس کا شمار ہی نہیں _
تو پھر پیاری ماں کے بے سانس وجود کو دیکھنا کتنا تکلیف دہ تھا ؟
جب وه بول نہیں رہی تھیں اور مہر بہ لب تھیں _
جب باجی خنسا بار بار وڈیو کال پے کہہ رہی تھیں کہ ” مجہے میری امی کے بال دیکھا دیں مجہے میری امی کے پاؤں دیکھائیں ”
پھر مجہے کہتیں
“_بجيا ! میری امی کے ہاتھ دیکھاؤ مجہے وه جگہ دیکھاؤ
جس جگہ میری امی کی چارپائی رکھی گئی ہے _”_
کوئی اتنا مسلسل ساری رات اور آدھا دن امی کے چہرے پے موبائل ركهوا کر کیسے دیکھ سکتا ہے ؟ عمر بھر کا دیکھنا تھا جو دیکھ لیا _’
پھر پیاری ماں کے خوب صورت چہرے کو مٹی نے ڈھانپ لیا _اور قیامت کے آخری دن تک پھر اس پیارے چہرے کو کوئی نگاہ دیکھ نہیں سکے گی _
ہماری خالہ جی انتہائی زهین فطين تھیں سینکڑوں شعر ان کو زبانی یاد تھے _
کسی بھی محفل کا احتتام وه خدا کے ذکر سے مکمل کرتیں _
انہوں نے بڑی باپرده زندگی گزاری _بڑی باعمل زندگی گزاری _انہوں نے بڑی نفیس ڈریسنگ کی _ہر رنگ جیسے ان کے لیے بنا تھا _
وه میرے دل کو اتنی خوب صورت لگتی تھیں کہ میرا دل چاہتا انکو دیکھتی رہوں _
میں ان کی بہت بڑی فین تھی _
میں ان سے بہت محبت کرتی تھی
اور آپ کا چهره ایک جھلی کی طرح میری آنکھ کی پتلی میں ٹہرا رہے گا _
میں آپ کو کبھی بھول نہیں پاؤں گی _
آپ میری معظم مکرم محترم استاد اور شفیق ماں تھیں
خدا وند آپ کی قبر کو روشن کرے اور آپ کی روح کو آراستہ فرمائے _جنت کے اعلی درجات جو حفاظ کرام کے لیے بنائے گے ہیں ان میں پہنچنے کا شرف حاصل کریں
پکڑ کے ہاتھ تیرا میں نے جو پایا ہے شرف
مجھ سے بیکار کو تو نے ہی بنایا ہے شرف
اس محبت کو بھلا کیسے فراموش کروں
میری ماں ! تو نے مجہے جینا سکھایا ہے شرف
تحریر۔۔۔نایاب جیلانی
بروز بدھ 27_11_2024
16,868 total views, 3 views today
























Leave a Reply