انٹرویو نادر فہمی
السلام علیکم معزز قارئین!
امید ہے کہ آپ سب خیریت سے ہوں گے. ایک نئے انٹرویو کے ساتھ میزبان رشناء اختر حاضر ہے ہمارے آج کے مہمان ہیں “محترم نادر فہمی صاحب” جو کہ شاعر ہیں اور ریڈیو آر جے بھی ہیں. تو چلیے وقت ضائع کیے بغیر انٹرویو کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہیں اور ان سے مزید گفت گو کرتے ہیں.
السلام علیکم
وعلیکم السلام
* کچھ اپنے بارے میں بتائیے
میرا نام نادر فہمی ہے میں بی اے کا طلب علم ہوں میں سات سال سے لکھ رہا ہوں ادبی خدمات میں ہریانوی پنجابی اردو زبان میں شاعری کرتا ہوں اور بچوں کے لیے کہانیاں لکھتا ہوں مختلف ویب چینل کے ڈراموں میں کام کرچکا ہوں
* مختلف زبانوں میں شاعری کب سے لکھنا شروع کی؟
جی میں نے آج سے سات سال پہلے اپنے قلمی دور کا آغاز اردو شاعری سے کیا کافی عرصہ اردو لکھنے کے بعد میں نے پنجابی اور ہریانوی زبان میں شاعری کی شروعات کی ۔
* پسندیدہ ادبی شخصیات کون سی ہیں جنہیں زیادہ پڑھتے ہیں ؟
میری پسندیدہ ادبی شخصیات میں علامہ محمد اقبال ٫ مرزا غالب٫ جون ایلیا اور احمد فراز ہیں
* آپ کا زمانہ طالب علمی کیسا تھا ؟
جی میرا زمانہ طالب علمی بہت اچھا تھا کیوں کہ مجھے بچپن سے ہی لکھنے کا بولنے کا بہت شوق تھا میں نے سکول دور میں تقریر مقابلہ میں ضلع بھر میں اول پوزیشن حاصل کی اور مضمون نویسی کے مقابلوں میں بھی حصہ لیا کرتا تھا۔
* ایک شاعر ہونا کیسا ہے خاص طور پر اس وقت جب کوئی آپ کو کوئی دیکھے اور کہے کہ اچھا آپ بھی شاعر ہیں ؟
میرے خیال سے پاکستان میں ہر دوسرا شخص شاعر ہے تو اس میں کوئی اتنی بڑی بات نہیں حیرت ہو جاتی ہے سامنے والے کو.
* فرصت کا بہترین استعمال کیسے کرتے ہیں ؟
دل میں رہنے والے لوگو کو یاد کرتا ہوں یا کبھی کبھی ناول پڑھ لیتا ہوں۔
* زندگی کا دیا ہوا کوئی ایک سبق جو ابھی تک کار آمد ثابت ہوا ہو ؟
میرے استاد محترم مجھے ہمیشہ کہا کرتے تھے نادر محنت اس طاقت کا نام ہے جو تمہیں خاموشی سے ہر وہ مقام دے سکتی ہے جس کے تم طلبگار ہو میرے استاد محترم کا دیا ہوا یہ سبق آج تک میرے کام آ رہا ہے.
* لوگوں کے بارے میں کیا راۓ ہے ؟ موجودہ معاشرہ کس قسم کا ہے ؟
آج کا معاشرہ بہت تیز ہو چکا ہے ہر کوئی اپنی شہرت اپنی ترقی اپنی خود پسندی کے لیے کام کر رہا ہے کیسی کے پاس اپنے رشتوں کےلئے اپنے چاہنے والوں کے لیے اپنوں کے لیے وقت نہیں.
* کل کتنی کتابیں لکھ چکے ہیں ؟ آپ کی شائع شدہ کتب کے نام ؟
کتاب تو نہیں کہوں گا بچوں کے لیے ایک پاکٹ سائز کتابچہ شرمساری لکھا.
* اب تک کتنے ایوارڈ اپنے نام کر چکے ہیں ؟
2023 میں مڈاڈ راجپوت تنظیم کی جانب سے بہترین ہریانوی شاعر و اداکار کا ایوارڈ حاصل کر چکا ہوں.
* کیا عصر حاضر میں ادبی محافل اپنے تقاضے پورے کر رہی ہیں ؟ ادب کے فروع کے لیے کون سے اقدامات ضروری ہیں ؟
میرے خیال سے کچھ تنظیم ایسی ہیں جو بے لوث ادب کی خدمات میں دن رات مصروف ہیں اور ان کے پروگرام ان کی کانفرنس ان ورکشاپ سے نئے لکھنے والوں کو بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے ابھی حال ہی میں آل رائٹرز ویلفئر ایشن پاکستان کے زیرِ اہتمام ایک شاندار ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جو کہ ادب کے فروغ کے لیے ایک اچھا اقدام ہے حکومت پاکستان کو بھی چاہیے ادب کے فروغ کے لیے ایسی ادبی تنظیموں کی پوری مدد کرے ادبی ورکشاپ ادبی پروگرام کا انعقاد کرے ادب کی خدمات کرنے والوں کی خدمات کو سراہے ۔
* ریڈیو کی طرف کیسے آنا ہوا پہلا پروگرام کون سا تھا ؟
سکول دور میں ریڈیو سے ایک پروگرام نشر ہوا کرتا تھا دل کے افسانے وہ پروگرام رات کو دو بجے نشر ہوتا تھا میں رات بھر اس پروگرام کے انتظار میں جگتا تھا تو اس طرح ریڈیو سے کافی لگاؤ ہوا میرا ریڈیو پر پہلا پروگرام “شاعری اور ہم” تھا.
* سیرو سیاحت کے شوقین ہیں ؟ اب تک کون سے مشہور سیاحتی مقامات گھوم چکے ہیں ؟
جی ہاں سیرو سیاحت کا میں کافی شوق رکھتا ہوں مری لاہور
ملتان کی سیر کر چکا ہوں اور خواہش رکھتا ہوں کہ پورے پاکستان کی سیر کروں.
* دور حاضر اُردو ادب کو دیگر ادب کے مقابلے میں کہاں دیکھتے ہیں ؟
اردو ادب پر وقت کے ساتھ ساتھ ہر دور میں ہی کام ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہے گا لیکن جو حق اور جو اہمیت ایک قومی زبان کی ہوتی ہے شاید وہ اہمیت ہم اپنی قومی زبان کو دینے سے قاصر ہیں کیوں کہ ہمارے ملکی نظام میں ہمارے تعلیمی نظام میں سب سے زیادہ اہمیت انگلش کو دی جاتی ہے اور یہ۔ہمارے لیے شرم کی بات ہے.
* آپ کے مطابق اگر زندگی کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ جملہ کیا ہوگا ؟
ایک کٹھن راستہ.
* زندگی کا وہ دور جب کوئی قیمتی شے کھو گئی ہو تو خود کو کیسے موٹیویٹ کیا ؟
زندگی میں بہت کچھ کھویا ہے باقی اس کی تفصیل میں نہیں جائیں گے کہ کیا کیا کھویا پر اپنے بزرگوں کی نصیحت کو یاد رکھتے ہوئے صبر کا دامن تھام کر آگے بڑھے۔
* نوجوان طبقہ بے راہ روی کا شکار ہے اس کی نمایاں وجوہات کون سی ہیں؟
آج کل سوشل میڈیا پر چل رہا ہے جو ہمارے نوجوان دیکھ رہیں ہیں بلکہ یوں کہیے کہ جو کچھ ہمیں دکھا یا جا رہا ہے یہ کونٹینٹ ہماری نوجوان نسل کو بہت محتاط انداز سے گمراہ راستوں کی طرف لے جا رہا ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتے۔
* آپ نے حال ہی میں اپووا تربیتی ورکشاپ میں شرکت کی اس حوالے سے کچھ کہنا چاہیں گے؟
اپووا ایک ایسی ادبی تنظیم ہے جو اپنی ادبی خدمات میں اپنی مثال آپ ہے ہر سال کی طرح اس سال بھی بے مثال تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا بہت کچھ سیکھنے کو ملا سنیئرز سے ملاقات کا موقع ملا اور اپووا نے سب لکھاریوں کی بہت اچھے انداز حوصلہ افزائی کی.
* لکھنے والوں کے لیے کوئی پیغام ؟
لکھنے والوں کو یہ ہی پیغام ہے کہ ہمشہ سچ کو اجاگر کرنے کی کوشش کریں معاشرے کی ہر اس مشکلات پر بات کریں جو ہماری زندگی کو اور ہماری آنے والی نسلوں کی گمراہی کا سبب بن سکتی ہیں-
* اپنا کوئی پسندیدہ کلام جو قارئین کے ساتھ شئیر کر سکیں ۔
غزل
حسیں پھولوں کی ڈالی سی
محبت بے خیالی سی
غمِ فرقت نہیں تو پھر
نگاہوں میں کیوں لالی سی
ہوں اس پہ اس لئے مرتا
وہ لڑکی ہے نرالی سی
بچھڑتے وقت آنکھیں تھیں
تری غمگیں سوالی سی
بنا اس شخص کے فہمی
ہے دل کی دنیا خالی سی
نادر فہمی.
اردو غزل
مجھے زندگی سے گلہ ہی نہیں
محبت کا اب سلسلہ ہی نہیں
جسے میں نے چاہا ہے دل سے سدا
مجھے اب تلک وہ ملا ہی نہیں
خزائیں مقدار رہی عمر بھر
جو گل میں نے چاہا کھلا ہی نہیں
کھڑا کر کے مجھ کو گیا وہ جہاں
میں اب تک وہاں سے ہلا ہی نہیں
ہوا اب یہ معلوم فہمی مجھے
جہاں میں وفا کا صلہ ہی نہیں
معزز قارئین امید ہے کہ آپ کو آج کا انٹرویو پسند آیا ہوگا. اپنی رائے کا اظہار ضرور کیجئے گا.
اگلے انٹرویو تک میزبان رشناء اختر کو اجازت دیجئے. دعاؤں میں یاد رکھیے. اللہ حافظ.
1,026 total views, 3 views today
























بہت خوب ۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ مزید کامیابیاں عطا فرمائے آمین
ماشاءاللہ ❤️
زبردست بہت اعلیٰ