چھوٹی سوچ کے لوگ
انسانیت تب تک زندہ ہے جب آپ کے سامنے ایسا انسان ہو جس نے آپ کے کردار تک سوال اٹھا دئے ہوں اور وہ بھوکا ہے
آپ کے لئے کھانے کا سامان آیا ہو کیونکہ آپ کو بہت بھوک لگی ہے پر جب آپ کو علم ہو کہ وہ انسان جو آپ پر گھٹیا الزام تک لگا رہا ہے اُس کے لئے کھانا نہیں آیا اور کھانا لانے والے نے بھی صاف الفاظ میں کہہ دیا ہو اور منع کیا ہو کہ آپ نے اُس انسان کو کھانا نہیں دینا پر آپ کے ذہن میں آتا ہے کہ میرے والدین نے میری تربیت یہ نہیں کی کہ اُس کے سامنے کوئی بھوکا ہو اور وہ پیٹ بھر کے کھانا کھائے آپ کھانا لانے والے انسان کو سمجھاتے ہیں وہ انسان کہتا ہے کہ ایسے لوگوں ساتھ نیکی کرنا بھی غلط ہے پر آپ اپنے حصے کا کھانا اُس انسان کو دیتے ہو کیونکہ وہ بھوکا ہوتا ہے کہ وہ پیٹ بھر کے کھانا کھائے اُس کے بعد جو کھانا بچ جائے آپ وہ کھاتے ہو اور کسی کو علم نہ ہو اور چپ رہتے ہو پر کہتے ہیں کہ کچھ لوگ عادتا فطرتا مجبور ہوتے ہیں اپنی چھوٹی ذہنیت سے اس لئے وہ آپ کی نیکی کا بدلہ اس طرح سے دیتے ہیں کہ جیسے آپ کو افسوس ہو کہ ہم نے اس انسان کے ساتھ بھلائی کر کہ غلط کیا
آپ کے خیال میں ایسے لوگوں کی چھوٹی سوچ کو کس طرح بدلا جاسکتا ہے لازمی اپنی رائے دیں
ردا امانت علی
7,786 total views, 3 views today
























فطرت سے مجبور لوگ