انٹرویو بابر الیاس

السلام علیکم ،میں ہوں رشنا اختر ۔۔۔معروف ادبی تنظیم آپ پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام چلنے والی معروف ویب سائٹ اپووا ویب کی ہوسٹ آج ہمارے ساتھ ہیں بابر الیاس صاحب آئیں ان سے بات چیت کرتے ہیں
__________________
السلام علیکم
1: کُچھ اپنے بارے میں بتائیے ۔
و علیکم السلام و رحمتہ اللہ
آپ کا شکریہ کہ آپ نے مجھ طالب علم کو اس قابل سمجھا ،میں صرف ادب کا طالب علم ہوں ،اچھا پڑھنا اور سیکھ کر بہتر لکھنے کی کوشش میں رہتا ہوں ،میرا مکمل نام بابرالیاس ہے اور اسی نام سے لکھنے کی کوشش کرتا ہوں ۔البتہ پاکستان کے مشہور شاعر بدر سیماب صاحب نے گزشتہ دنوں ایک مشاعرے میں بابر الیاس بابر پکار کر “تخلص” دیا ان کی محبتوں کا شکریہ ۔
تحصیل چیچہ وطنی کے ایک گاؤں سے تعلق ہے آپ کہہ سکتے ہیں کہ دیہاتی ہوں اور خوش ہوں ۔
2: بچپن کیسا گزرا ؟
گاؤں کے بچوں کا بچپن کچھ خاص نہیں ہوتا ،گجر فیملی سے تعلق ہے تو گائے ، بھینس ،بکری کی خدمت میں بھی گزرا اور الحمدللہ والدین کی سختی کی بدولت تعلیمی سفر بھی جاری رہا ۔
3: ادب سے کس حد تک لگاؤ ہے ؟
میں تو کمزور اور کم علم ہوں, ادب کی دنیا میں صرف طالب علم سے زیادہ اہمیت نہیں ہے،ادب کی دنیا بے شمار ستاروں سے بھری ہوئی ہے ،کسی ایک کا نام لے کر شاید ناانصافی ہو ،لیکن ادب ہی زندگی ہے کیونکہ امام کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی ہی ادب ہیں ۔
4: قلمی سفر کا آغاز کب ہوا؟
2013 میں
5: پہلی کہانی کون سی لکھی اور اس کا رسپانس کیسا رہا ؟
میں نے پہلا کالم دو ہزار تیرہ میں روز نامہ اسلام کے لیے لکھا تھا ،کتنا پسند آیا یہ تو معلوم نہیں لیکن گزشتہ دنوں میری کہانی “مدفون محبت” ہفت روزہ اخبارجہاں” میں چھپی تو بہت زیادہ خوشی ہوئی۔اور بیک اپ بھی اچھا تھا ۔
6: آپ نے کبھی اپووا کانفرنس میں شرکت کی ؟ اگر کی ہے تو آپ کا ایکسپیرنس کیسا رہا ؟
جی الحمدللہ یہ شرف حاصل کر چکا ہوں ،2022 میں شریک ہوا تھا اور اس فورم کی محبتوں کا مقروض ہوں ،خاص طور پر سفیان فاروقی صاحب ،فلک زاہد صاحبہ اور علی بھائی کا کہ آج پھر اس فورم پر آپ کے سامنے ہوں۔
7: فرصت کا بہترین استعمال کیسے کرتے ہیں ؟
انسان علم کی بنیاد پر افضل ہے,
مطالعہ زندگی کا شعور دیتاہے۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں۔۔۔مصنف ماہرنفسیات ہوتا ہے۔وہ زندگی کے نشیب وفراز اتار چڑھاؤ۔۔۔ سمجھتاہے۔۔۔یہی کامیابی بہت زیادہ ہے.
8: زندگی کا دیا ہوا کوئی ایک سبق جو ابھی تک کار آمد ثابت ہوا ہو ؟
کوئی بھی شعبہ ہو انسان ساری عمر سیکھتا ہے۔زبان زدعام ہے کہ انسان گود سے گور تک سیکھتا ہے۔کوشش لکھاری کی صفت اور صبر لکھاری کا مقام ہوتا ہے, صبر کے ساتھ سیکھنے کے عمل کو جاری رکھیں تو کامیابی مقدر بن جاتی ہے, ایک اچھا لکھاری بننے کے لیے بہت زیادہ مطالعہ ازحدلازم ہے۔اس کے ساتھ ساتھ وسیع معاشرتی مشاہدہ ۔۔۔۔ رویے۔۔لہجے۔۔۔انسانی نفسیات۔۔۔۔ بھی ضروری ہے۔۔۔تب کہیں ہوتا ہے میں دیدہ ور پیدا۔۔۔۔تو یہ اسباق کا سلسلہ ابھی جاری ہی ہے ۔
9: لوگوں کے بارے میں کیا راۓ ہے ؟ موجودہ معاشرہ کس قسم کا ہے ؟
انسانیت محبت کی میم ہے, زندگی محبت کے بغیر ادھوری ہے۔ہمیشہ محبت کرتے رہتے ہیں۔والدین۔۔بہنوں بھائیوں سے لیکر اساتذہ دوست اور بیوی بچوں تک۔۔۔۔سب سے اہم ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم سےمحبت کریں۔۔۔ اس کی پہلی شرط حقوق العباد ہے۔۔
یہ معاشرہ بیمار ہو چکا ہے,عدم برداشت کی وجہ سے یہ ہوتا ہے, اللہ اکبر …. میں کسی کے بارے میں کیا رائے دوں اور کیوں دوں کیونکہ کہ یہ میرا حق ہی نہیں ۔۔۔۔۔لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ بیمار معاشرے کی بیماری کا علاج اپنی اصلاح, اور اس اصلاح کی بنیاد دین اسلام کیونکہ ہم اب ذات, پات, نسل, قوم, قبیلہ, علاقہ کی تقسیم کے اب سیاسی تقسیم کا شکار ہوۓ اور اس کے بعد ہم اب مذہبی تقسیم کا شکار ہو چکے ہیں, جو میری اور آپکی بیماری کا باعث بنا, لہذا اب اس کی دوا بھی دین اسلام کی روشنی میں ممکن ہے, کیونکہ ہم سب خود کو ہر طرح ممکن سمجھتے ہیں جو غلط ہے, اپنی غلطی تسلیم نہ کرنا اور دوسرے کی غلطی کو نمایاں میرے اہل علم و قلم کا مشن بن چکا ہے, اس لیے اصلاح یا علاج خود سے شروع کرنا ہو گا۔
10: کبھی ایسا محسوس ہوا کہ اگر لکھاری نہ ہوتا تو کیا ہوتا ؟
اللّٰہ کریم جو کرتے ہیں وہ مخلوق کی لیے بہترین ہوتا ہے ۔
11: لکھنے کی طرف کب آنا ہوا ؟
میں نے 2013 میں لکھنا شروع کیا, ہر دروازے پر دستک دی لیکن دروازہ بند ملا, پھر روز نامہ اسلام سے ابتدا ہوئی, ساہیوال سجاگ, قلمدان ڈاٹ نیٹ ویب, ہماری ویب اور اب صف شکن, یہ بیمار معاشرہ ہے صاحب یہاں ہر ادارے میں جو سیٹ پر ہے وہ خود کو خدا سمجھتا ہے لہذا مشکل تو ہوتی ہی ہے۔باقی مشکل کا سامنا تو سڑک کراس کرنے میں بھی ہوتا ہے۔۔۔۔ظاہری بات ہے ہر فیلڈ میں مشکلات درپیش ہوتی ہیں اور ہر مشکل کے بعد بےشک آسانی ہے۔
12: پہلی کتاب کونسی لکھی اور کیسا رسپانس رہا ؟
اللہ اکبر…. میں ادب کا طالب علم ہوں بلکہ نہ ہی خود کو اس قابل سمجھتا ہوں۔۔ بس لکھتا رہتا ہوں۔۔۔میری کتاب ۔۔امام کائنات صلی اللہ علیہ والہ وسلم صبح روشن کے فورم سے پبلش ہوچکی ہے۔۔باقی سلسلہ جاری ہے ۔
13:بچوں کے لیے کیا لکھنا ضروری ہے جو معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکے ؟
تربیت ماحول اور جدیدیت نے بچوں کو استاد کے احترام سے دور کردیا ہے۔۔مگر ایسا بہت کم ہے۔ہربات پر۔۔۔۔توجہ سے ہی انسان کا ہر قدم درست سمت کی طرف جا سکتا ہے ورنہ یہ اشرف انسان اپنی منزل سے بھٹک جاۓ گا!
14: سیرو سیاحت کے شوقین ہیں ؟ اب تک کن مشہور سیاحتی مقامات گھوم چکے ہیں ؟
جی الحمدللہ کشمیر کی وادیوں کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے ۔
15: کھانا پکانے کا بھی کوئی شوق ہے یا صرف کھانا کھانے کا ہے ؟
جی کبھی کبھی بیگم (بے غم) کے ساتھ ملکر کوشش کر لیتے ہیں ۔
16: آپ کے مطابق اگر زندگی کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ جملہ کیا ہوگا ؟
اللہ اکبر, زندگی نعمت ِخداوندی ہے اور یہی خاص ہے۔باقی مشکل آسانی تو زندگی کا حصہ ہے۔میں کسی کو کچھ پڑھنےکا مشورہ نہیں دےسکتا۔۔یہ اپنی اپنی توجیہات ترجہیات اور پسندناپسند ہوتی ہے۔
17: زندگی کا وہ دور جب کوئی قیمتی شے کھو گئی ہو تو خود کو کیسے موٹیویٹ کیا ؟
جو میرے رب نے میرے نصیب میں نہیں رکھا اس کا کھو جانا ہی بہتر ہے ۔
18: زندگی کا کوئی مزیدار سا واقعہ جسے یاد کر کے اب بھی ہنسی آتی ہو ؟
جب بھی کوئی اعتماد پر پورا نہیں اترتا پھر خود پر ہنسی تو بنتی ہے اور ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں ۔
19: نئے لکھنے والوں کے لیے کوئی پیغام ؟

۔یہ سچ ہے کہ کچھ ادبی لوگوں کے رویےاور لہجے مثبت و منفی تنقید سے قطعِ نظر بےادبی پر مبنی ہوتےہیں.کیونکہ ہم خود کو مکمل سمجھتے ہیں اور سیکھنے کا دروازہ بند رکھتے ہیں لہذا بطور انسان دل برداشتہ ہونا فطری عمل ہے, تاہم انہیں برداشت کرنا پڑتا ہے۔ہم نے ایونٹ کروائے تو بعض مصنفین نے منصفین کے حتمی فیصلوں پر بھی اعتراض کیا۔خیر یہ بات تو برسبیل تذکرہ ہوئی۔یہ حقیقت ہے کہ ادب کی مسافت انتہائی کٹھن اور صبرآزماہے۔
بہت کچھ پڑھا۔۔۔۔ بہت پڑھا۔۔اور پڑھ رہا ہوں مگر دنیا میں لکھنے والوں میں سے قمراجنالوی کے “”چاہ بابل”” نے من چھولیا۔۔۔ایساناول شاید ہی کوئی لکھ پائے۔
وقت میں سے وقت نکالنا پڑتا ہے،اگر یہ تردد نہ کیا جائے تو وقت مہلت کہاں دیتا ہے۔گروپ ہو یا زندگی ہمیشہ افسردگی خوشی چلتی رہتی ہے۔۔۔بعض دفعہ برخلافِ طبیعت کسی ناپسندیدہ بات سے متفق ہونا پڑتا ہے۔۔۔ظاہری بات گروپ کئی لوگوں سے بنتا ہےاور سب لوگ آپس میں متفق نہیں ہوتے۔۔ہرذہن مختلف ہوتا ہے۔

کچھ بھی ہو۔۔۔اس کا ایک ٹائم ٹیبل ہونا چاہیے۔۔۔میں بھی یہی کرتا ہوں۔۔اور سچ تو یہ ہے کہ وقت میں سے وقت نکالنا بہت مشکل ہوتا ہے۔غور و فکر کریں کہ ہمارا دین بھی وقت کی پابندی کا درس دیتا ہے اور ہر عبادت بھی وقت مقررہ پر قبول کرتا ہے۔
لکھنے سے بہت کچھ ملا۔۔۔ادبی,مقام انسانیت ,سوچ کا درست زاویہ, شعور دوست۔۔۔احساس۔۔انسانیت کادرد۔۔۔ جو کہ آجکل ناپید ہوچکا ہے۔
مطالعہ ہو گا تو الفاظ کا استعمال بھی آۓ گا, جو لکھاری مطالعہ کرتا ہے وہ الفاظ کا جادو چلانا بھی جانتا ہوتا ہے,
ایک دوسرے کی بات کو سننا سمجھنا اور برداشت کرنا۔احساس ,خلوص اور محبت ۔۔۔۔اجزائے ضروری ہیں۔
کسی میں کوئی کمی نہیں ۔۔۔سب اپنے اپنے مشاہدے اور تجربے کے مطابق لکھ رہےہیں۔لیکن صبر,برداشت اور درگزر کی کمی ہے۔
بدلتے وقت کے ساتھ لوگ بھی بدل گۓ ہیں, پی ڈی ایف اور سوشل میڈیا کی چمک نے براۓ نام کر دیا ہے, مشکل ضرور ہے کہ لوگوں کوکتاب کی طرف راغب کیا جائے۔۔۔لیکن مشکل نہیں اگر مل کر اہل قلم کوشش کریں تو شاید یہ ممکن ہو جاۓ!!واضح رہے یہ کتابوں کی آخری دہائی ہے۔
اللہ کی راہ میں نکل پڑیں۔اللہ کے بندوں سےمحبت کریں۔۔۔خوبصورتی یہی ہے کہ آپ کے اندر جذبہ انسانیت و احساس بدرجہ اتم موجود ہو۔
تحریر شخصیت کا آئینہ ہوتی ہے۔مصنف کی تحریر میں کہیں نہ کہیں اس کا اپنا عکس ضرور ہوتا ہے۔۔آپ چاہ کر بھی مصنف کو اس کی تحریر یا طرزتحریر سے الگ نہیں کرسکتے۔۔۔
انسان علم کی بدولت افضل ہے, اہل قلم قوم کا سرمایہ ہیں, جو گذشتہ ادوار میں لکھا گیا وہ آج ہمارے لیے قابل عمل ہے, اور جو آج لکھا جا رہا ہے یہ آنے والے دور اور نسلوں کے لیے قابل عمل ہو گا لہذا سچ اور حقیقت کو لکھیں کہ جسکو آپ اپنے لیے پسند کرتے ہیں,
بات لمبی ہو گئ مختصراً یہ کہ
محنت۔۔۔محنت۔۔۔۔محنت
20:اپووا تنظیم کے بارے میں آپ کیا کہنا چاہیں گے ؟
لکھاریوں کی تعداد سے زائد شاید تنظیمیں کام کر رہی ہیں ۔۔۔ہر تنظیم اپنے طور پر منفرد کرنے کی کوشش میں ہے ،اسی طرح اپووا ہے جو اپنے لکھنے والوں کو حوصلہ دینا جانتی ہے اور اپنے پڑھنے والوں کو لفظوں کی مالا میں پروتے ہوئے معاشرے کے تلخ حقائق کا چہرہ دکھانے کی کوشش کر رہی ہے ۔
اپووا کی ٹیم کا آپس میں اتحاد ہی اس کی کامیابی کا راستہ ہے اللّٰہ کریم اس تنظیم کو مزید کامران فرمائے ۔آمین

735 total views, 3 views today

One Response to انٹرویو بابر الیاس

  1. Shahzad Khan says:

    ماشاءاللہ ۔۔۔ بہت اچھے سوالات مرتب کئے گئے اور ان کے جوابات بھی بہترین انداز میں دئیے گئے ہیں اوور آل بہت لاجواب انٹرویو ہے۔ ایک نہایت خوبصورت، علمی، ادبی اور بے لوث شخصیت کا انٹرویو کرکے مس رُشنا اختر صاحبہ نے بہت زبردست کام کیا ہے۔ ملک بھر میں پھیلے قارئین کو یقیناً محترم بابر الیاس صاحب کی شخصیت کے پہلوؤں کے متعلق جان کر بہت خوشی ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *