بھرم ہے یہ محبت کا تم بھی ذرا رکھ لو

بھرم ہے یہ محبت کا تم بھی ذرا رکھ لو
زمانے نےتو رکھا ہے سب کا تم بھی ذرا رکھ لو
ان آتشی نظروں نے کیا بے جو دیوانہ
مت پوچھ محبت کا وہ انداز نرالا تھا
ان ساحلی راستوں پہ چلوں یا
صحرا میں تجھے ڈھونڈوں
آنا ہے مجھے بھی وہاں پہ جہاں تیرا ٹھکانہ ہے
آیا ہے بہت دور سے دیوانہ دل لیکر
پل دو پل ہی سہی دیدار تمنا دے دو
جلتے شعلوں پہ رقص کرتی چنگاریوں کی قسم
اس شمع پروانے پروانے کو جلنے کی سزا دے دو

ثانیہ راجپوت

2,763 total views, 3 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *