گل گوپو سا بچہ

بسا اوقات یونہی کوئی خیال آپکے دماغ میں بار بار گھوم رہا ہوتا ہے لاکھ جھٹکنے اور جھٹلانے کے باوجود۔۔۔۔۔ اور خیر سے آپ اگر لفظوں کے توڑ جوڑ کی ذرا سی سدھ بدھ بھی رکھتے ہوں تو سونے پر سہاگہ ۔۔۔۔۔ اتنی شدت اور وارفتگی سے موصوف(خیال)عصبی خلیوں(Neurons ) کے مابین اٹھکیلیاں کرتا, اچھلتا, کودتا، پھدکتا ہے گویا اپنے ہونے کا، اپنے وجود کا اقرار چاہتا ہو اور اکثر ہی محض وہ ایک خیال نہیں ہوتا در حقیقت خیالات کا ایک تسلسل ہوتا ہے جو عدم سے اترتے ہی چلے جاتے ہیں اور پھر مصرع در مصرع ، شعر در شعر میں ڈھلتے ڈھلتے پوری غزل ہو جاتی ہے یا جملہ در جملہ بڑھتے بڑھتے ایک نثر پارہ ۔۔۔۔ اک عجب عالمِ بے خودی سا طاری ہو جاتا ہے شاید اک وجدان کی سی کیفیت جس میں یہ خیالات اپنی پوری توانائی ، جولانی اور روانی سے کسی آسمانی رسدگاہ سے جوق در جوق اترتے ہی چلے جاتے ہیں محفلِ دل/ دلان کو سجانے یا کسی ابر کی صورت برسے ہی چلے جاتے ہیں بنجر خزاں رسیدہ ہستی /ہستیوں کو سیراب کرنے ۔۔۔
یہ کیسا طلسم کدہ ہے ؟؟؟
یہ کیسا معجزہ ہے ؟؟؟
یہ کیسی عنایت ہے؟؟؟
یہ کیسی عطا ہے؟؟؟
یہ کونسا گیان ہے؟؟؟
کچھ خبر نہیں ۔۔۔۔ہوش آتی ہے تو آپ کے سامنے کوئی تخلیق صفحہءِ قرطاس پر اپنی پوری حشر سامانیوں کے ہمراہ جلوہ گر ہوتی ہے اور آپ ششدر و حیراں، پھٹی نگاہ سے اسے دیکھ دیکھ خود کو یقین دلا نے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ میں نے ہی لکھا یا مجھ سے لکھایا گیا ۔۔۔۔۔ یہ کیا ہو گیا ۔۔۔۔ ایسا ہی میرے ساتھ ہوا جب پیشِ نظر غزل وجود میں آئی اور میں آج تک اس کو کسی صحیفے کی صورت سینت سینت رکھتی چلی آئی مگر آج جی چاہ کہ اپنے پیارے احباب سے شئیر کر ہی لوں ایک ایک شعر کا لطف لیجیے گا کہ یہ میرے دل کے بے حد قریب تخلیق ہے میری ۔۔۔ جیسے اولاد میں سے کوئی ماں کو سب سے لاڈلا اور پیارا گل گوپو سا بچہ ۔۔۔۔۔۔
آپ کے حسنِ ذوق کی نذر میرا پسندیدہ ترین کلام:

تو لا کھ دوڑ لے مگر مدار میں ہی رہتا ہے
ترے خیال کا فلک غبار میں ہی رہتا ہے

کسی گنہِ گزشتہ کا ملال ہے ضمیر پر
ابھی تلک جو ذہنی خلفشار میں ہی رہتا ہے

تمام رات بے سبب ادھر ادھر میں کاٹ دی
یہ فکر کا سفر بھی انتشار میں ہی رہتا ہے

محیط جس طرح ہے دائرے پہ تیرا یہ سفر
صفر سےچل کہ نقطہ بھی شمار میں ہی رہتا ہے

ترے سکون سے سبھی سکون ہیں جڑے ہوے
مگر یہ تو کہ راہِ خلفشار میں ہی رہتا ہے

پیالہ و صراحی و سبو یہاں ہیں رائگاں
سکونِ دل تو خود پہ اعتبار میں ہی رہتا ہے

خدا نے تجھ کو سونپ رکھی ہیں خرد کی لذتیں
مگر تو بس وجود کے خمار میں ہی رہتا ہے

یہ گلستان کاش اب خزاں میں بھی کھلا رہے
یہ خوشبوؤں کا ربط کیوں بہار میں ہی رہتا ہے؟؟

حیات محوِ رقص ہے، سرور میں ہے یہ جہاں
مفارقت کا سوگ سوگوار میں ہی رہتا ہے

اٹھو اسیرِ نقش پاے غیر!!! شش جہت چلو
سفر کا وقت و سمت تو سوار میں ہی رہتا ہے

جہاں میں جنگ اور پیار کے اصول ایک سے
یہ گرنا اور سنبھلنا شہسوار میں ہی رہتا ہے

وہ جسم ہے مرا، اسیر جو قفس کا ، با خدا
مرا یہ دل تو یار کے دیار میں ہی رہتا ہے

غبار پر فریفتہ تجھے بھلا یہ کیا خبر
کہ اصل حسن روح کے نکھار میں ہی رہتا ہے

سفر کرے گی عزہ ہی زمیں سے ان خلاؤں تک
مگر غبارِ راہ رہگزار میں ہی رہتا ہے
تحریر.عزّہ یاسمین

14,808 total views, 3 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *