عزت
کیڈٹ کالج میں آئے دو تین دن ہوئے تھے ۔ مس فضا کے بارے میں اتنا کچھ جان چکی تھی کہ ملنے کے لیے بے چین تھی ۔ وہ عام سی دو بچوں کی ماں، کالج میں مردوں کے ساتھ ایسے تھی جیسے مضبوط چٹان ۔ صبح فجر سے لے کر رات بارہ بجے تک اپنے کام میں مگن ۔ ہر چیز پر نظر ۔ اس کے ہوتے کوئی اپنے کام میں سستی کر جائے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ اسے آتا دیکھ کر لوگ اپنے کاموں میں لگ جاتے ۔ اٹھو مس فضا اس طرف آ رہی ہیں فارغ بیٹھا دیکھ لیا تو نوکری گئ ۔ تھی تو وہ عورت ذات لیکن مردوں سے بھی کہیں مضبوط ۔ میرا ان سے بات کرنے کو بہت دل کرتا۔ وہ جب بھی نظر آتی اپنے کسی کام میں مگن ہوتی ۔ مردوں کی اس دنیا میں پانچ اور چھ سال کے اس کے دو بیٹے اس کی ڈھال تھے۔ عورت صنف نازک ہے لیکن فضا مضبوط ہونے کا با کمال کردار نبھا رہی تھی۔ آج میس میں اپنے بچوں کے ساتھ کھانا کھانے میں مصروف تھیں ۔میں نے اس وقت کو غنیمت سمجھا اور ان کے پاس چلی گئی ۔ بظاہر سخت اور کرخت دکھائی دینے والی دل سے اتنی نازک تھی کہ مجھے باغ میں اڑتی نازک چھوٹی سی تتلی محسوس ہوئی۔ مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے وہی روایتی گھسے پٹے سوال کر دیے۔ آپ نے دوسری شادی کیوں نہیں کی ؟ اکیلی بچوں کو پال رہی ہیں کسی مرد کا سہارا کیوں نہیں لیا ؟انھوں نے اپنے بیٹوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شرارت سے کہا ، ایک میری بائیں طرف سوتا ہے ایک میری دائیں طرف سوتا ہے کسی تیسرے کے لیے میرے بستر پر جگہ ہی نہیں ہے .
دونوں بڑے ہو گئے ۔شادیاں ہو گئی تو پھر تو آپ اکیلی ہو جائیں گی ۔ کوئی ساتھی ڈھونڈ لیں جو بڑھاپے میں گلاس پانی کا پوچھ سکے ۔ بیٹوں نے اپنی ذمہ داریوں میں لگ جانا ہے ۔پھر آپ کو کون پوچھے گا ؟ وہ بے ساختہ بولی نہیں پوچھیں گے تو ایدھی سینٹر چلی جاؤں گی ۔ اس کے اس جواب پر میں خاموش ہو گئی۔
آج تقریباً دس سال بعد میری ملاقات فضا سے ہوئی کافی دیر بیٹھے باتوں باتوں میں انھوں نے بتایا کہ ان کے بھائی ان کی جان کے دشمن بنے بیٹھے ہیں وہ نہیں چاہتے کہ بہن اپنے بچوں کے ساتھ ان کے گھر میں رہے ۔ ایک دو بار بھائیوں نے مار کر گھر سے باہر نکالا لیکن باپ ابھی زندہ ہے ،وہ اپنے ارادوں میں کامیاب نہیں ہو سکے۔اب وہ شادی کرنا چاہتی ہیں ۔ ان کے بیٹوں کو کوئی اعتراض نہیں لیکن بھائی اور باپ نے عزت کا واسطہ دیا ہے کہ خاندان والوں کو کیا منہ دکھائیں گے، بیٹی نے خود اپنے لیے شوہر ڈھونڈ لیا ۔تم ہماری عزت ہو خاندان میں ہماری عزت نہ خراب کرنا
تحریر.فوزیہ فروا
20,012 total views, 3 views today
























Leave a Reply