ہر مرد ایک سا نہیں ہوتا
ہمیشہ سنا ہو گا آپ نے بھی کہ پانچ انگلیاں برابر نہیں ہوتیں میرا یہ ماننا ہے کہ کھانا کھاتے ہوئے سب انگلیاں برابر ہو جاتی ہیں ۔ کیونکہ ان کا مقصد ایک ہوتا ہے۔
اسی طرح تمام مردوں کے بارے میں بھی یہی مانا جاتا ہے مرد ایک جیسے تب ہوتے ہیں جب وہ باپ بنتے ہیں کیونکہ اولاد کو پالنا ، تربیت کرنا اور معاشرے کا ایک کارآمد فرد بنانا یا یوں سمجھیے جیسے ایک بیل گاڑی کو چلانے کے لیے کچھ عرصے بعد ایک توانا بیل کی ضرورت پڑتی ہے اسی طرح مرد اپنی اولاد کو پروان چڑھاتا ہے اپنی جگہ جوتنے کے لیے اور بیٹی کی پرورش کرتا ہے کہ وہ بھی کسی نسل کی امین دار ہوتی ہے اچھی نسل کی ضامن ہوتی ہے ۔
مرد ایک سا ہوتا ہے بہنوں کے معاملے میں۔ وہ اپنی سگی بہنوں کے لیے تو بھائی ہوتا ہی ہے مگر کبھی کبھار کسی سنسان جگہ پر مدد کے لیے چیختی آواز کا بھی بھائی بن کر ڈھال کی طرح حفاظت کرتا ہے۔ اور کچھ ناسوروں سے حفاظت کے لیے خود کی جان کی بازی لگا جاتا ہے کیونکہ وقتی ہی سہی لیکن اس وقت وہ محسوس کرتا ہے کہ یہ میری اپنی بہن ہے ۔ کبھی راستے میں کوئی گری چیز اٹھا کر دینا۔ بس ، یا ویگن میں اپنی سیٹ دے دینا، عورتوں کے پاس سے گزرنے پر اپنے دوستوں کو خاموش رہنے کا اشارہ کر دینا، کسی تنگ کرنے والے کی ٹھکائی کر دینا ، پرائی لڑائی میں کود پڑنا کہ تیری بہن میری بھی تو بہن ہے۔ یہ بھی تو ایک سے مرد ہوتے ہیں جو بھائی ہوتے ہیں۔
مرد ایک سا ہوتا ہے جب وہ شوہر ہوتا ہے اپنی بیوی سے مخلص، دوسری شادی کا اختیارو وسائل ہونے کے باوجود صرف اس خیال سے کہ میری بیوی نے میرا بہت ساتھ دیا وہ دوسری شادی نہیں کرتا، کھانے پکانے سے ناواقف بیوی کے کچے پکے کھانے کھاتا ہے، جلی روٹیاں اور کچی دال بھی واہ بہت مزے کی کہہ کر کھا لیتا ہے ، اپنے ماں باپ سے بدزبانی اور اپنے بہن بھائی کی دلآزاری بھی برداشت کر لیتا ہے ، اور کبھی کبھی دوری بھی کہ الگ گھر لیکر کہ اس کی بیوی خوش رہ سکے ۔۔
مرد ایک سا ہوتا ہے جب وہ بیٹا ہوتا ہے اپنے ماں باپ کی خدمت و پیار کرنے والے،چھوٹے بھائی کے لیے لڑنے والا ، بہنوں کے کام بھاگ بھاگ کہ کرنے والا ، بوڑھی ماں کے لیے اپنی بیوی سے جھگڑا کرنے والا، کہ ماں اکیلی ہے اس کی خدمت میرا فرض ہے تم جانا چاہتی ہو تو جاؤ، کہیں ساری عمر پردیس میں گھر والوں کے سکھ کے لیے گزارنے والا ، جو اسی قربانی میں آخری عمر خون تھوک تھوک کر تنہا مر جاتا ہے لیکن اندر سے مطمئن ہوتا ہے کہ میں نے گھر والوں کو تو سکھ دیا تھا۔
مرد ایک سا ہوتا ہے جب وہ دوست ہوتا ہے۔ رات کے ڈھائی بجے آپ کی ایک کال پر دوڑ آنے والا۔ آپ کو مشکل میں دیکھ کر دوستوں کی فوج جمع کر لینے والا، آپ کے کسی عزیز کو خون کی ضرورت ہے وہاں ایک کی جگہ دس کا انتظام کرنے والا، بہن کی شادی ہے یا کسی کا جنازہ لمحوں میں ہر چیز کا بنا کسی مطالبے و لالچ کے انتظام کرنے والا، آپ کے رونے کو کندھا دینے والا، آپ کی ہنسی آپ کی خوشی کے لیے جوکر بننے والا، کسی کی بیوفائی پر آپ کو چھڈ یار،چل مار، کہنے والا، آپ کی نئی بائیک کی ٹریٹ آپ سے زبردستی کھانے والا مگر جب آپ کو ضرورت ہے تو بنا واپسی کا مطالبہ کئے آپ کی جیب میں پیسے ڈالنے والا،
آپ کو مرد ایک سے لگتے ہیں ناں، خود غرض ، جھگڑالو، بیوفا ، دھوکے باز ، یقین مانیئے وہ اندر سے ایک سے ہی ہوتے ہیں ڈرپوک ۔۔وہ آپ کو کھونے سے ڈرتے ہیں اسی لیے اپنی مجبوریاں کھل کر بیان نہیں کر پاتے ، وہ ڈرتے ہیں کہ خوشی کے جو پل وہ آپ کے ساتھ گزار رہے ہیں ان کی عمر کم نا ہو جائے یا چھن نا جائے۔اس کے سو روپ ہیں اس کے ہر روپ میں قربانی ہے کہیں وہ جذبات کی قربانی دیتا ہے تو کہیں احساسات کی ، مگر جب وہ آپ کے کہنے پر ہی باغی بنتا ہے تو آپ ہی کیوں کہتے ہیں ،سب مرد ایک جیسے ہوتے ہیں ،؟
تحریر.عمارہ کنول
20,947 total views, 3 views today
























Leave a Reply