عبادت
نزیراں کافی عرصہ سے میرے گھر کی صفائی کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہے ۔ میں جیسے ہی سکول سے گھر پہنچتی ہوں وہ باہر دروازے پر میرا انتظار کر رہی ہوتی ہے ۔ میں خوشی سے اسے کہتی ہوں ۔نزیراں اگر آپ نہ آؤ تو سچی میں کچھ بھی نہ کر سکوں ۔ وہ یہ جملہ سنتے ہی ہنس پڑتی ہے۔ باجی میری ضرورت مجھے یہاں لاتی ہے ۔ نزیراں کا تعلق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والوں میں سے ہے ۔ جب کبھی مجھے قرآن کریم کی تلاوت کرتے دیکھے تو بڑے اشتیاق سے مجھ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں پوچھتی ہے ۔ باجی میرے نبی کے بارے میں قرآن مجید میں کیا لکھا ہے ؟ میں خاص اس کو بتانے کے لئے کچھ نہ کچھ ڈھونڈ کر رکھتی ہوں ۔ اسے بتاؤں تو وہ ایسے سنتی ہے جیسے کوئی اپنے بچھڑے کی خبر سنتا ہے ۔ ہم اکثر اکٹھے بیٹھ کر چائے پیتے ہیں ۔ آج مجھے بولی باجی مجھے کچھ کھانے کا بھی ساتھ دیں ۔ کیوں نزیراں آج بھوکے پیٹ کام کر رہی ہو ۔ میں نے اسے روٹی بنا کر دی ۔ کھانے کی پلیٹ پکڑتے ہی وہ ہمیشہ کی طرح جوتا اتار ، سر پر دوپٹہ اوڑھ زمین پر کھانا کھانے بیٹھ گئی۔ آج مجھ سے رہا نہیں گیا اور پوچھ لیا۔
نزیراں یہ جوتا اتار کر سر پر دوپٹہ اوڑھ کر زمین پر بیٹھ کر کھانا کیوں شروع کرتی ہو ؟ وہ ہنسی اور بولی ۔ باجی عبادت کرو تو جوتا اتار کر سر ڈھانپ کر عبادت کرتے ہیں ۔ بندہ سارا سارا دن محنت کرتا ہے ۔ پھر اللہ اس کی محنت کو رنگ لگاتا ہے اسے کھانے کو دیتا ہے ۔ باجی یہ رزق بھی عبادت ہے.
تحریر فوزیہ فروا
8,868 total views, 3 views today
























Leave a Reply