“رزق اور سکون کے متلاشی”
انسان کے دنیا میں آنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ اس کا نصیب، اس کا رزق اور اس کی عمر مقرر کر کے بھجیتے ہیں۔یہ تین چیزیں ایسی ہیں جو نہ تو کوئی آپ سے چھین سکتا ہے اور نہ اسے کم زیادہ کر سکتا ہے۔ جو آپ کی دقسمت میں ہے وہ آپ کے ساتھ ہو کر رہنا ہے۔جتنا رزق آپ کی قسمت میں لکھا ہے وہ آپ کو مل کر ہی رہنا ہے۔ اسی طرح آپ کی عمر کا ایک منٹ نہ تو بڑھ سکتا ہے نہ کم ہو سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہی تمام مخلوقات کا خالق ہے اور وہی تمام جن و انس، حیوانات اور چرند و پرند کو رزق عطا کرنے والا ہے۔توجہ طلب بات یہ ہے کہ بنی نوع انسان کے علاوہ تمام مخلوقات رزق حاصل کرنے کے لئے نہ تو جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں، نہ دھوکہ دہی کرتے ہیں اور نہ ہی کسی کا کھانا چھینتے پھرتے ہیں۔ مگر پھر بھی پیٹ بھر کر ہی سوتے ہیں، کیونکہ انہیں یقین ہے کہ جن اللہ رب العزت نے ان کے لئے مقدر کردیا ہیں وہ انہیں مل کر ہی رہے گا۔
اس کے برعکس اشرف المخلوقات ہوتے ہوئے ہم اس یقین کو بہت پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ ہم اپنا مال بیچنے کے لئے تمام حدود و قیود سے گزر جاتے ہیں۔اب تو حال یہ ہے کہ اپنی کسی پروڈکٹ کی مشہوری کے لئے ہم سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں اور چھوٹی چیز کو بڑا بنا کر دکھا رہے ہیں۔ایک کے ساتھ ایک فری کی آفر لگا کر اپنی کم قمیت چیز کو بہت اعلی بتا کر سادہ لوح لوگوں کو دھوکا دے رہے ہیں۔
الیکٹرونک میڈیا پر ہر اشتہار اور ایڈ میں ایک خوبصورت لڑکی بہت ضروری ہو گئی ہے جو اس پروڈیکٹ کی مشہوری کرتی نظر آ رہی ہے۔ضروریات زندگی کی ہر شے خواہ وہ گھر کی ہو یا باہر کی، حتی کہ مردوں کے استعمال کا سامان، مثلا شیو کا سامان، مردانہ انڈر گارمنٹس وغیرہ کے اشتہارات میں بھی ایک لڑکی ناچتی، گاتی، ہانپتی نظر آ رہی ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے جب ہمارے آباء و اجداد کے دور میں سوشل میڈیا، الیکٹرونک میڈیا یہ اشتہارات نہیں تھے تو کیا ان کا کاروبار نہیں چلتا تھا؟ کیا ان کے بچے بھوکے سوتے تھے؟ نہیں نہیں، تب کاروبار زیادہ چلتے تھے اور ان میں برکت تھی، سکون تھا اور سب سے بڑھ کر تب ٹینشن کم تھی، بلکہ نہ ہونے کے برابر تھی۔
بڑے بزرگ کہتے ہیں کہ ہیلہ کرو تو وسیلہ خود بن جائے گا۔ ایک مشہور واقعہ ہے کہ ایک غریب شخص کو اپنے بچے کے علاج کے لئے پیسے چاہئے تھے۔ اس پریشانی میں وہ مسجد میں جاتا ہے اور اپنے رب سے مانگتا ہے۔دوسری طرف ایک امیر آدمی بڑی بے چینی کی حالت میں ٹہل رہا ہے، سکون کی نیند سو نہیں پا رہا۔۔۔اسی بے چینی میں وہ بغیر سوچے سمجھے گاڑی نکالتا ہے اور انجان روڈ پر گھومتے گھومتے بہت دور نکل آتا ہے۔اچانک اسے ایک مسجد نظر آتی ہے، وہ نیچے اترتا ہے اور بے اختار مسجد کی طرف چل پڑتا ہے۔اندر پہنچ کر کیا دیکھتا ہے کہ مسجد میں ایک شخص سجدے کی حالت میں زارو قطار رو رہا ہے اور اپنے رب سے مانگ رہا ہے۔ وہ امیر آدمی اس کے پاس آتا ہے اور اس سے رونے کی وجہ پوچھتا ہے۔ وہ غریب جب اپنی مجبوری بتاتا ہے تو وہ امیر شخص اپنی جیب سے رقم نکالتا ہے اور اسے دے دیتا ہے۔جس پر وہ غریب شخص اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہے اور جانے لگتا ہے تو امیر شخص جلدی سے اٹھ کر اسے کہتا ہے بھائی یہ میرا کارڈ رکھ لو جب کبھی ضرورت پڑے تو میرے پاس آ جانا، آپ کی مدد کر کے مجھے بہت سکون ملا ہے۔ اس پر وہ غریب شخص کہتا ہے کہ اس کارڈ کی مجھے کیا ضرورت، مجھے جب چاہئے ہوں گے میں پھر اپنے رب سے مانگ لوں گا وہ تجھے تیرے بستر سے نکال کر خود بخود مجھ تک پہنچا دے گا۔
قارئین! ہمیں اپنے رب پر یقین رکھنا چاہئے جو چیونٹی کو بھی اس کی بل میں رزق دیتا ہے تو وہ اپنے بندے کو کیوں محروم رکھے گا اور جو آپ کے نصیب میں ہے وہ آپ کو مل کر ہی رہے گا۔ اس لئے میری گزارش ہے کہ محنت سے حلال روزی کماؤ، ملاوٹ، دھوکہ دہی اور لوٹ مار سے بچو۔ ایسا کرنے سے آپ کے تھوڑے مال میں بھی برکت ہوگی اور سب سے بڑھ کر اس بے سکونی کے عالم میں بھی آپ کو سکون جیسی دولت میسر آئے گی!!
تحریر ثمرین زاہد
2,956 total views, 3 views today
























Leave a Reply