انٹرویو قراۃالعین خالد

السلام علیکم معزز قارئین!

میزبان رشنا اختر حاضر ہے ایک نئے زبردست انٹرویو کے ساتھ ۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں محترمہ قرات العین صاحبہ تو چلیئے بغیر وقت ضائع کیے گفتگو کا سلسلہ شروع کرتے ہیں ۔

السلام علیکم! کیسی ہیں آپ ؟

وعلیکم السلام
الحمدللہ بہت شکریہ آپ نے یاد کیا ۔

*کُچھ اپنے بارے میں بتائیے ۔

میرا نام میرے تایا میجر طارق محمود نے رکھا۔ شہر اقبال سیالکوٹ میری جائے پیدائش ہے۔ ابتدائی تعلیم وترتیب بھی سیالکوٹ سے ہی حاصل کی۔ والدہ بھی گورنمنٹ اسکول میں پڑھاتی رہیں اور والد صاحب کا تعلق بھی کسی نہ کسی طرح درس و تدریس سے رہا۔ ہم تین بہنیں ہیں اور ایک بھائی ہے۔ الحمدللہ! شادی شدہ ہوں اور ماشاءاللہ چار بچوں کی ماں ہوں۔

*قلمی سفر کا آغاز کب ہوا؟

میرے چھوٹی بہن الماس العین خالد جو ایک ڈرامہ نگار ہیں وہ بچپن سے شاعری لکھا کرتی تھی اس کو دیکھ دیکھ کر مجھے بھی شوق ہوتا تھا مگر اس جیسا کبھی لکھ نہیں سکی۔ لیکن جو جس نے مقدر میں ہو اسے ہر حال میں مل کر رہتا ہے۔ تو 2019 میں مجھے ہما مختار احمد ملیں جنہوں نے میرا لکھنے کے حوالے سے حوصلہ بڑھایا اور الحمدللہ! آج آپ کے سامنے ہوں۔

*آج کل کچن کی زیادہ تر ذمہ داریاں خانساماں کو دے دی جاتی ہیں کیا ایسا کرنا درست ہے ؟ خاص طور پر جب آپ کی اپنی فیملی ہو اور آپ لکھاریہ بھی ہوں۔

رسول اللّٰہ کے فرمان کے مطابق: اللہ کو پسند ہے کہ جو نعمت میں نے اپنے بندے کو عطا کی ہے اس کا اظہار ہو تو اگر کوئی افورڈ کر سکتا ہے تو وہ ضرور ملازم رکھے۔ دین اسلام کی شان ہے ملازم رکھنا دراصل ہم نے عورت کو اور اس کی زندگی کو گھریلو ذمہ داریوں کی نظر کر دیا ہے جب کہ میرے اللہ نے اسے نسلوں کی آمین بنا کر بھیجا ہے اس کا کام اپنی اولاد کی بہترین تعلیم وترتیب کرنا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اگر وہ گھریلو ذمہ داریاں اٹھاتی ہے تو وہ ایک آئرن خاتون ہے۔ میں سمجھتی ہوں آپ جو بھی کام کریں اسے بوجھ نہ سمجھیں بلکہ محبت سے کریں تو تھکن کا احساس نہیں ہو گا۔

*فرصت کا بہترین استعمال کیسے کرتی ہیں ؟

ہاہاہاہاہاہاہاہا ۔۔۔۔چار بچوں کی ماں اور فرصت کے لمحات کچھ مطابقت نہیں لگی۔ پھر بھی گھریلو ذمہ داریوں اور بچوں کے کاموں سے فراغت کے بعد میں اپنے آپ کو کچھ وقت ضرور دیتی ہوں اور رات سونے سے پہلے کچھ نہ کچھ ضرور لکھتی ہوں وہ الفاظ چاہے شائع ہو یا نہ ہوں میں لکھتی ضرور ہوں یا پھر پڑھتی ضرور ہوں۔ کبھی کبھار کوئی اچھی کہانی ہو تو ڈرامہ بھی دیکھ لیتی ہوں ۔( ڈرامہ فرصت میں دیکھتی ہیں یا مصروفیت میں ؟ خیر یہ کہانی پھر سہی)

*زندگی کا دیا ہوا کوئی سبق جو ابھی تک کار آمد ثابت ہوا ہو ؟

وقت کے ساتھ ساتھ میں نے سیکھا ہے کہ اعتبار اعتماد توکل بھروسہ دوستی صرف اللہ کے ساتھ کرنی ہے۔ رشتوں اور انسانوں سے توقعات لگانا چھوڑ دی جب سے تب سے زندگی بہت پر سکون ہے۔ اور جب سے لوگوں کی باتوں کو نظر انداز کر کے آگے بڑھنا سیکھا ہے تو زندگی بہت اچھی لگنے لگی ہے۔

*لوگوں کے بارے میں کیا راۓ ہے ؟ موجودہ معاشرہ کس قسم کا ہے ؟

الحمداللہ! میں لوگوں کے بارے میں رائے قائم نہیں کرتی اور نہ کسی کو جج کرتی ہوں۔ جو ہے جیسا ہے اپنے حساب سے بہتر ہے۔ میں خود کو بہتر بنانے پر یقین رکھتی ہوں(جان چھڑانے کا بہترین طریقہ)

*عصر حاضر میں جہاں بے راہ روی بڑھ رہی ہے اور سوشل میڈیا اس میں زیادہ کردار ادا کر رہا ہے تو ایسے میں والدین کی کیا ذمہ داریاں ہیں کہ وہ بچوں کی بہتر انداز میں تربیت کر سکیں.

آج کے ماحول اور معاشرے نے والدین کو کہاں والدین رہنے دیا ہے۔ وہ تو پیسہ کمانے والی مشینیں ہیں اور بچوں کی خواہشات پوری کرنے والی جادو کی چھڑی بن کر رہ گئے ہیں۔ مادی ضروریات پوری کرنے کے چکر میں اولاد کی روخانی ضروریات کہیں پس پشت چلی گئی ہیں۔ قصور صرف والدین کا نہیں ہے بلکہ پورے معاشرے کا ہے۔ والدین تو پابندی لگا دیں گے مگر جب ہمارے بچے اس معاشرے میں باہر نکلیں گے تو ماحول کا رنگ تو چڑھتا ہے نا۔ والدین کی وہی ذمہ داری ہے جو اللہ نے ان کو سونپی ہے بچے کا تعلق اپنے رب سے جوڑنا ہے اور اس کو دین کی تعلیم دینی ہے۔ صبغتہ اللّٰہ کے بعد کسی کا رنگ گہرا نہیں ہو سکتا۔

*زیادہ تر ماڈرن لڑکیوں کو گھر گرہستی سے الرجی ہے اور وہ یہ بھی چاہتی ہیں کہ گھر امن کا گہوارہ ہو ۔ آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے ؟

امن کا گہوارہ گھر۔۔۔۔۔صرف گھر کے کاموں سے نہیں ہوتا۔ یہ تو رشتوں کے ادب، لحاظ، محبت، اعتبار، اعتماد اور عزت سے بنتا ہے۔ میں سمجھتی ہوں عزت اور محبت فاتح عالم ہیں۔ ان دو ہتھیاروں کے ساتھ ہر ناممکن کام ممکن ہو سکتا ہے پھر وہ گھر گرہستی ہی کیوں نہ ہو ساس سسر کی خدمت سے لے کر سارے سسرال کی ذمہ داریاں ہی کیوں نہ ہوں لڑکیاں جتنی بھی ماڈرن ہو جائیں وہ ہوتی تو لڑکیاں ہی ہیں نا۔ محبت اور عزت کے نام پر سب کر گزرتی ہیں۔( آہاں فلسفہ)

*سیرو سیاحت کی شوقین ہیں ؟ اب تک کن مشہور سیاحتی مقامات گھوم چکی ہیں ؟

اتنی ذیادہ تو نہیں تھی مگر اللہ نے ساتھ ایسا نصیب کیا کہ پھر بس ہر وقت سیر و سیاحت پر ہی نکلے ہوتے ہیں۔ بہت سے مقامات ہیں محتصر بتا دیتی ہوں۔ مری، اسلام آباد، کراچی حیدرآباد، کاغان کالام سوات اسکردو گلگت بلتستان ہنزہ شگر، سعودیہ، دبئی سری لنکا سنگا پور ۔۔۔۔۔۔۔اور پاکستان کے سیاحتی مقام کئی کئی بار دیکھے الحمدللہ ( اس لیے ان کا کچھ زیادہ ہی گھوما ہوا ہے)

*آپ کے مطابق اگر زندگی کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ جملہ کیا ہوگا ؟

زندگی کی حقیقت موت ہے۔

*زندگی کا وہ دور جب کوئی قیمتی شے کھو گئی ہو تو خود کو کیسے موٹیویٹ کیا ؟

دنیا فانی ہے اس کی ہر نعمت کو فنا ہے۔ باقی رہ جانے والی صرف نیکیاں ہیں۔

*آپ نے حال ہی میں اپووا کانفرنس سیالکوٹ میں شرکت کی اس حوالے سے کچھ کہنا چاہیں گی ؟

میرا شہر ہے بہت اچھا لگا پورے پاکستان سے ادبی لوگ تشریف لائے تھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ سینئرز سے ہمیشہ محبت ملی کوشش کرتی ہوں کہ جونیئرز کو محبت اور آسانی دوں۔ کانفرنس کی سب سے اچھی بات یہ تھی کہ اس کی احتتام پرسب میرے گھر پر تشریف لائے تھے۔ ادب کے اتنی قیمتی موتی جب میرے گھر آئے تو میرا خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ الحمداللہ!

*نئے لکھنے والوں کے لیے کوئی پیغام ؟

میں تو خود ابھی نئی ہوں طفل مکتب ہوں ۔۔۔لیکن کہنا چاہوں گی جو کہ حقیقت ہے۔
با ادب با نصیب
بے ادب بے نصیب
کامیابی کی دوڑ میں اتنا تیز نہ بھاگیں کہ غلط اور درست کے فرق کو ہی بھول جائیں۔ جو آپ کا مقدر ہے وہ کوئی لے نہیں سکتا اور جو آپ کا مقدر نہیں وہ آپ چھین نہیں سکتے
قلم رب کی امانت ہے اس کا حساب ہو گا جو بھی لکھیں حق لکھیں کسی کا دل نہ دکھائیں

*اپنا پسندیدہ کلام جو قارئین کے ساتھ شیئر کر سکیں ۔

یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتحِ عالم۔
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں۔

ایسے رہا کرو کہ کریں لوگ آرزو۔
ایسا چلن چلو کہ زمانہ مثال دے۔

معزز قارئین امید ہے آپ کو آج کا انٹرویو پسند آیا ہوگا اپنی رائے کا اظہار ضرور کیا کیجئے ۔ اگلے انٹرویو تک میزبان رشنا اختر کو اجازت دیجیئے دعاؤں میں یاد رکھئیے ۔ اللّٰہ حافظ

1,851 total views, 6 views today

3 Responses to انٹرویو قراۃالعین خالد

  1. قرۃالعین خالد says:

    بہت بہت شکریہ رشنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  2. عائشہ صفدر، فیصل آباد says:

    بہترین۔

  3. سجاد علی بھنڈر says:

    ماشاءاللہ بہت خوب آپی سلامت رہئے ۔
    اللّٰہ تعالیٰ آپ کو مزید کامیابیوں اور عزت سے نوازے
    رشنا آپی کی بدولت اہل ادب کے تعارفی انٹرویوز کا سلسلہ بہت کمال ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *